Posts

Showing posts from June, 2025

علم نحو

  وہ علم ہے جس سے اجزائے کلام کو ترتیب دینے اور  جدا جدا کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کلمات کے ربط اور باہمی تعلق کے حال سے واقفیت ہوتی ہے اور جس غلطی سے مطلب میں خلل واقع ہو اس سے کلام کو بچاتاہے۔ اقسام جملہ ترکیب کے لحاظ سے جملہ کی تین قسمیں ہیں۔ (1)مفرد               (2) ملتف           (3)مرکب جملہ مفرد: وہ جملہ ہے جس میں صرف ایک مسند الیہ اور ایک مسند ہو ۔ جیسے ۔ احمد پڑتا ہے۔ کسی جملہ میں مسند الیہ اور مسند کے علاوہ پانچ چیزیں اور بھی ہوتی ہیں۔ جن کو متعلقات کہتے ہیں۔   (1) مفعول مطلق     (2) مفعول فیہ   (3)  مفعول لہ   (4) حال      (5) جار مجرور یعنی مرکب جاری مفعول مطلق :۔ وہ مفعول ہے جو اپنے فعل کا مصدر  یا حاصل مصدر یا مرادف ہو۔ جیسے ۔ وہ شیر کی بولی بولا ، میں چال چلا (بولی اور چال مفعول مطلق ہیں) مفعول فیہ :۔ فعل ہونے کے وقت یا مقام کو مفعول فیہ کہتے ہیں۔ جیسے۔ تم رات کو کہاں تھے  (اس جملہ میں "رات اور کہاں" مفعول فیہ ہ...