کالو ایک بھنگی ہے جو ہسپتال میں کئی سالوں سے کام کرتا ہے ۔ وہ میرے (کرشن چندر ) ذہین پر عرصہ دراز سے سوار ہے کہ میں اسکے بارے میں کوئی کہانی لکھوں ۔ لیکن میں بار بار اس پر کوئی کہانی تحریر کرنے کا سور چتا ہوں پر نہیں لکھ سکتا ہوں ۔ اس کی زندگی میں ہے کیا کہ اس پر کوئی دلچسپ افسانہ یا کہانی رتیب دی جاسکے ۔ اس میں کوئی کشش نہیں ، کوئی ٹیڑھی لکیر نہیں ، کوئی انہونی واردات نہیں ، کوئی عشق و محبت کا فسانہ نہیں کوئی خاندانی تاریخ نہیں کہ کوئی کہانی وجود پا سکے مگر کالو بھنگی ہے کہ کہانی لکھوانے پر مصر ہے اور ڈیوڑھی سے ملنے کا نام نہیں لیتا۔ وہ میرے ذہن کے دریچوں سے اکثر جھانکتا رہتا ہے اور مسکرا کر پوچھتا ہے اور ہے کہ کیوں چھوٹے صاحب ! مجھ پر کہانی نہیں لکھو گئے ؟ لیکن اس کی زندگی جو نہایت ہی میاٹ ، بے رنگ اور بے کیف ہے، پر کوئی عمدہ کہانی، کوئی دلچسپ افسانہ کیوں کر لکھا جا سکتا ہے۔ ایک سیدھے سادے بھنگی پر کوئی لکھ ہی کیا سکتا ہے؟ بس یہی نا کہ کالو بھنگی پچھلے کئی سالوں سے ہسپتال میں مریضوں کا بول و براز صاف کرتا ہے اور ہر وقت اپنی کھردری زندگی اور جھاڑو لیے حاضر رہتا ہے۔ اس نہایت ہی کر یہ ب...
Posts
- Get link
- X
- Other Apps
اگر چہ اردو زبان کی ارتقاء میں مسلمان فاتحین کے اثرات مسلم ہیں مگر اردو کے ابتدائی شو نما میں صوفیائے کرام کا ایک بڑا حصہ ہے ۔ صوفیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لئے یہاں کی عوامی بولی کا انتخاب کیا۔ کیوں کہ یہ زبان سارے ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی ۔ اس لئے وہ یہاں کی علاقائی زبان کو ابلاغ و ترسیل کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے جو عوام میں رائج تھی۔ لفظ صوفى " صوف " يا صفا سے مشتق ہے۔ صوفیوں کو مذھبی اور اخلاقی دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ صوفی حضرات ہمیشہ باطن کی آنکھ سے کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ برائی میں اچھائی تلاش کرتا ہے ۔ اصل صوفی ماہر تاسیسات ہوتا ہے۔ دلوں کو ٹٹولتا ہے ۔ اور اس کے نہ تک پہونچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نیز انسان کے پوشیدہ راز کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کو ہمیشہ علماء ، امراد بلکہ حکومتوں پر بالادش حاصل رہی ہے۔ صوفیوں کا دربار عام ہوتا ہے جہاں امیر و غریب ، عالم و جاصل میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔ ابلاغ و ترسیل کے لئے سب سے آسان ذریعہ زبان ہے۔ دلوں کے اندر داخل ہونے کے لئے ہم زبان اور ہم خیال ہونا ضروری ہے ۔ اس لئے صوف...
- Get link
- X
- Other Apps
ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز نومبر 1923ء میں کلکتہ کے ایک ریڈیو کلب سے ہوا ۔ جبکہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز 1921 ء میں ہوا۔ حسن مثنیٰ لکھتے ہیں : " جناب کے ایم سری واستو اپنی تصنیف " Radio and T.V. Journalism " میں رقم طراز ہیں کہ : ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز اس وقت ہوا جب بمبی کے گورنر سر جارج لائڈ کی فرمائش پر ٹائمس آف انڈیا نے 1921 ء میں اپنے بمبئی آفس سے پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کے اشتراک سے موسیقی کا ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جسے بمبی سے دو سو کلومیٹر دور ہونے میں سر جارج لائڈ نے سنا۔ جبکہ براڈ کاسٹک ان انڈیا " Broadcasting in India " کے مصنف پی سی چڑجی کا خیال ہے کہ ہندوستان میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز نومبر . 1923ء میں اس وقت ہوا جب کلکتہ میں ریڈیو کلب بنا اور اس نے پروگرام نشر کرنا شروع کیا۔ " (ریڈیو نشریات - آغار وار تقاء : ح...
ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء-معاشرے پر ٹیلی ویژن کے مثبت اور منفی اثرات
- Get link
- X
- Other Apps
ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء ٹیلی ویژن موجودہ زمانے کا موثر ذریعہ ابلاغ ہے اور یہ انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ اس کے اثرات اخبار ،ریڈیو اور فلم کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ لفظ ٹیلی ویژن دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ٹیلی یونانی لفظ ہے جس کے معنی بہت دور سے اور ویژن لاطینی لفظ ہے جس کے معنی دیکھنا یا دیکھائی دینا ہے۔ اس طرح ٹیلی ویژن کے معنی بہت دور کی چیز کو دیکھنا ہے۔ ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل ریڈیو مواصلات کا اہم ذریعہ تھا ۔ اور بغیر آواز کی محرک فلم بھی پردے پر پیش ہونے لگی تھی ۔ جلد ہی سائنس دانوں نے تصویر کی حرکت اور آواز کو ایک ساتھ پیش کرنے اور پھر ان دونوں کو لہروں میں بدل کر دور تک بھیجنے اور ان لہروں کو دوبارہ تصویر اور آواز کی شکل میں حاصل کرنے کے طریقے ایجاد کر لیے جو ٹیلی وژن کے ایجاد کا ذریعہ بنے ۔ ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغار سب س...