Posts

 اگر چہ اردو زبان کی ارتقاء میں مسلمان فاتحین کے اثرات مسلم ہیں مگر اردو کے ابتدائی شو نما میں صوفیائے کرام کا ایک بڑا حصہ ہے ۔ صوفیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لئے یہاں کی عوامی بولی کا انتخاب کیا۔ کیوں کہ یہ زبان سارے ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی ۔ اس لئے وہ یہاں کی علاقائی زبان کو ابلاغ و ترسیل کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے جو عوام میں رائج تھی۔ لفظ صوفى " صوف " يا صفا سے مشتق ہے۔ صوفیوں کو مذھبی اور اخلاقی دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ صوفی حضرات ہمیشہ باطن کی آنکھ سے کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ برائی میں اچھائی تلاش کرتا ہے ۔ اصل صوفی ماہر تاسیسات ہوتا ہے۔ دلوں کو ٹٹولتا ہے ۔ اور اس کے نہ تک پہونچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نیز انسان کے پوشیدہ راز کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کو ہمیشہ علماء ، امراد بلکہ حکومتوں پر بالادش حاصل رہی ہے۔ صوفیوں کا دربار عام ہوتا ہے جہاں امیر و غریب ، عالم و جاصل میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔  ابلاغ و ترسیل کے لئے سب سے آسان ذریعہ زبان ہے۔ دلوں کے اندر داخل ہونے کے لئے ہم زبان اور ہم خیال ہونا ضروری ہے ۔ اس لئے صوف...
                  ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز نومبر 1923ء میں کلکتہ کے ایک ریڈیو کلب سے ہوا ۔ جبکہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز 1921 ء میں ہوا۔ حسن مثنیٰ لکھتے ہیں : " جناب کے ایم سری واستو اپنی تصنیف "   Radio    and T.V.   Journalism  " میں رقم طراز ہیں کہ  :  ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز اس وقت ہوا جب بمبی کے گورنر سر جارج لائڈ کی فرمائش پر ٹائمس آف انڈیا نے 1921 ء میں اپنے بمبئی   آفس سے پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کے اشتراک سے موسیقی کا ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جسے بمبی سے دو سو کلومیٹر دور ہونے میں سر جارج لائڈ نے سنا۔ جبکہ براڈ کاسٹک ان انڈیا  " Broadcasting  in India "  کے مصنف پی سی چڑجی کا خیال ہے کہ ہندوستان میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز نومبر . 1923ء میں اس وقت ہوا جب کلکتہ میں ریڈیو کلب بنا اور اس نے پروگرام نشر کرنا شروع کیا۔ " (ریڈیو نشریات - آغار وار تقاء : ح...

ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء-معاشرے پر ٹیلی ویژن کے مثبت اور منفی اثرات

         ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء                           ٹیلی ویژن موجودہ زمانے کا موثر ذریعہ ابلاغ ہے اور یہ انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ اس کے اثرات اخبار ،ریڈیو اور فلم کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ لفظ ٹیلی ویژن  دو  الفاظ کا مرکب ہے۔  ٹیلی  یونانی لفظ ہے جس کے معنی بہت دور سے اور  ویژن  لاطینی لفظ ہے جس کے معنی  دیکھنا یا  دیکھائی  دینا ہے۔ اس طرح ٹیلی ویژن کے معنی بہت دور کی چیز کو دیکھنا ہے۔                  ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل ریڈیو مواصلات کا اہم ذریعہ تھا ۔ اور بغیر آواز کی محرک فلم بھی پردے پر پیش ہونے لگی تھی ۔ جلد ہی سائنس دانوں نے تصویر کی حرکت اور آواز کو ایک ساتھ پیش کرنے اور پھر ان دونوں کو لہروں میں بدل کر دور تک بھیجنے اور ان لہروں کو دوبارہ تصویر اور آواز کی شکل میں حاصل کرنے کے طریقے ایجاد کر لیے جو ٹیلی وژن کے ایجاد کا ذریعہ بنے ۔ ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغار سب س...

ع

ع

ب

علم نحو

  وہ علم ہے جس سے اجزائے کلام کو ترتیب دینے اور  جدا جدا کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کلمات کے ربط اور باہمی تعلق کے حال سے واقفیت ہوتی ہے اور جس غلطی سے مطلب میں خلل واقع ہو اس سے کلام کو بچاتاہے۔ اقسام جملہ ترکیب کے لحاظ سے جملہ کی تین قسمیں ہیں۔ (1)مفرد               (2) ملتف           (3)مرکب جملہ مفرد: وہ جملہ ہے جس میں صرف ایک مسند الیہ اور ایک مسند ہو ۔ جیسے ۔ احمد پڑتا ہے۔ کسی جملہ میں مسند الیہ اور مسند کے علاوہ پانچ چیزیں اور بھی ہوتی ہیں۔ جن کو متعلقات کہتے ہیں۔   (1) مفعول مطلق     (2) مفعول فیہ   (3)  مفعول لہ   (4) حال      (5) جار مجرور یعنی مرکب جاری مفعول مطلق :۔ وہ مفعول ہے جو اپنے فعل کا مصدر  یا حاصل مصدر یا مرادف ہو۔ جیسے ۔ وہ شیر کی بولی بولا ، میں چال چلا (بولی اور چال مفعول مطلق ہیں) مفعول فیہ :۔ فعل ہونے کے وقت یا مقام کو مفعول فیہ کہتے ہیں۔ جیسے۔ تم رات کو کہاں تھے  (اس جملہ میں "رات اور کہاں" مفعول فیہ ہ...