اگر چہ اردو زبان کی ارتقاء میں مسلمان فاتحین کے اثرات مسلم ہیں مگر اردو کے ابتدائی شو نما میں صوفیائے کرام کا ایک بڑا حصہ ہے ۔ صوفیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لئے یہاں کی عوامی بولی کا انتخاب کیا۔ کیوں کہ یہ زبان سارے ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی ۔ اس لئے وہ یہاں کی علاقائی زبان کو ابلاغ و ترسیل کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے جو عوام میں رائج تھی۔ لفظ صوفى " صوف " يا صفا سے مشتق ہے۔ صوفیوں کو مذھبی اور اخلاقی دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ صوفی حضرات ہمیشہ باطن کی آنکھ سے کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ برائی میں اچھائی تلاش کرتا ہے ۔ اصل صوفی ماہر تاسیسات ہوتا ہے۔ دلوں کو ٹٹولتا ہے ۔ اور اس کے نہ تک پہونچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نیز انسان کے پوشیدہ راز کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کو ہمیشہ علماء ، امراد بلکہ حکومتوں پر بالادش حاصل رہی ہے۔ صوفیوں کا دربار عام ہوتا ہے جہاں امیر و غریب ، عالم و جاصل میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔
ابلاغ و ترسیل کے لئے سب سے آسان ذریعہ زبان ہے۔ دلوں کے اندر داخل ہونے کے لئے ہم زبان اور ہم خیال ہونا ضروری ہے ۔ اس لئے صوفیوں نے سب سے زیادہ زور زبان پر دیا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کی عوامی زبان میں گفتگو کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اس لئے عوام کے درمیاں زیادہ وقت گزارنے لگے تاکہ عوام کو سمجھ سکیں ۔ یہی کوشش کامیاب ہوئی اور ان مسلمان بزرگوں نے خواہ وہ باہر سے آئے ہوں یا یہاں پیدا ہوئے ہوں اپنی صلاحیت کے ذریعہ عوام و خواص میں معزز ہو گئے۔ اس طرح صوفی بزرگ دین کی تبلیغ کرتے کرتے اردو زبان کی آبیاری بھی کر گئے۔ صوفا ئے کرام شاعری اور موسیقی سے بھی شغف رکھتے تھے اس لئے وہ غیر شعوری طور سے حمد وثنا اور اخلاقی پر چار میں ادب بھی تخلیق کرتے رہے ۔ صوفیائے کرام کی فہرست تمام ہندوستان پر محیط ہے۔
شیخ بہاوالدین باجی : شیخ بہاء الدین باحی (ولادت سے
وفات ۱۵۰ ء برہان پور کے اولیاء اللہ میں سے ہیں۔ شیخ تعزیر الله التوکل علی اللہ کےمرید تھے۔ آپ کی ایک کتاب خزانہ رحمت ہے۔ جس میں اپنے مرشد کے ملفوظات اور ارشادات جمع کئے ہیں ۔ بقول صاحب تاریخ برہان اور اس زمانے میں جو ملک ہند کی طرز زبان بھی اس طور پر کلمات عمر یہ مضمون تصوف کسی بھی موزوں فرماتے تھے ۔
یوں یا جن باجے دے اسرار چھاڑے
منزل من میں دھکے
رباب رنگ میں جھمکے
صوف ان پر ٹھمکے
یوں باجی باجے ہے اسرار چھا جے
پروفیر شیران روان کے متعدد اشعار لکھے ہیں ان میں سے ایک
مندرجہ ذیل ہیں
روزی در هر نماز گزاری دینی فرضی زنده من فضل میرے جھونک نا ہیں آئیں مکہ میں ہے
5
حضرت خواجہ معین الدین چشتی : ان کا کوئی معتر قول ہندی زبان میں نہیں ملا، لیکن ان کی عالمگیر مقبولیت کو دیکھتے ہوئے لیتی امر ہے کہ وہ ہندی زبان سے ضرور واقف تھے۔ کیوں کہ ہندو بھی مسلمانوں سے رو کم ان کے معتقد نہیں " ہندالولی کی ترکیب اور غریب نواز کا لقب خود ان کی عام مقبولیت کی صاف شہادت دے رہے ہیں۔ ۱۳ ویں صدی کر بالوں شکر گئے ۔ بہت بڑے پائے کے شاعر اور جوں ہوے صوفی کے علاوہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم متھے نیز یہ خواجہ معین الدین چشتی کے جانشین بھی تھے ان کا کلام سکھوں کی مقدس کتاب گروگر روی " میں درج ہے اقوال : 1 خوجا بالا ہے ا بولوں کا چاند بھی بالا ہے۔ کم اویں صدی (1) شیخ شرف الدین بوعلی ملنی : - بانی بن کر رہنے والے تھے۔ صاحب جلال اور صاحب اثر بزرگ تھے۔ قول : " لو کا کچھ سمجھ دا ہے گا شرے کبھی سکارے جائیں گے اور تین مریں گے اور مد ھنا ایسی دین کو بھور کر ھی نہ ہوئے ،
ابر خرو : سلطان الاولیا شیخ نظام الدین ولادت وفات کے جشنبہ میں عجب صاحب کمال ، وسیع مشرب ، صاحب دل اور صاحب ذوقی بزرگ گزرے ہیں۔ ہر ملک و مشرب کے لوگ ان کے پہلے ہاں حاضر ہوئے ان کے عرفان و زند دلی سے فیض پاتے تھے۔ پہیلی : دس تاری ایک ہی تر بتی با ہر وا کا گھر بیٹھ سخت اور پیٹ نرم منھ میٹھاتا پیر گرم (خربوزہ) ۱۵ دل صدی سید شاہ ہاشم حسن العلوم :- آپ کے ایک مرید حاضر بائٹس شاہ مراد ابن سید جلال نے آپ کے کام اقوال وحالات جو شاہ صاحب کی زبان وقتاً فوقتاً نے ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دیتے ہیں۔ دو مقصود المراز ، رکھا ہے۔ جس کا نام انھوں نے دو مقصد قول : باشم کی چھولا ہر ہو وہیں متوالے سحر پہویں وحدت کے بحر دنی جوں قاتل زھر
۱۶ ویں صدی صفحہ: تاریخ: شیخ عبد القدوس گنگوہی : شیخ عبد القدوس گنگوہی ولادت ہے ۱۵۳۸ صفات کہ شیخ محمد بن شیخ احمد عبد الحق چشتی صابری کے مرید اور صاحب تصانیف کثیرہ ہیں وہ مہندی کے شاعر تھے اور اور انکھ داس مخلص کرتے تھے ۔ ان کی ایک نصیف " رشتہ نامہ " ہے جس میں تصوف اور وحدت وجود کے نکات بیان کیے ہیں۔ اس میں جگہ جگہ ہندی دوہرے اپنی تصنیف کے لکھے ہیں اس میں سے چند نقل کئے جاتے ہیں ۔ دھن کا رن پی آپ سنوارا بن ہےن سکھی کنت کن ہا را جدھر دیکھوں ہے سکھی دیکھوں ہور نکوئے دیکھا بوجھ بچار میں سبھی آہیں ہوئے 12 ویں صدی 1 خوب محمد چشتی -:- ان کا شہر یہ بھی احمد آباد (گجرات) کے رہنے والے تھے اور ان کا شمار وہاں کے بڑے درویشوں اور اہل عرفان ہے، خصوصاً تصوف میں دست رسا رکھتے تھے ، صاحب اتصانیف اور صاحب سخن تھے ۔ محمد خدا کی خوب کر کہ صلوة رسول پچھیں صنعت شعر کی کہیے تو ہوئے قبول
Comments
Post a Comment