ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز نومبر 1923ء میں کلکتہ کے ایک ریڈیو کلب سے ہوا ۔ جبکہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز 1921 ء میں ہوا۔
حسن مثنیٰ لکھتے ہیں :
" جناب کے ایم سری واستو اپنی تصنیف" Radio and T.V. Journalism "میں رقم طراز ہیں کہ : ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز اس وقت ہوا جب بمبی کے گورنر سر جارج لائڈ کی فرمائش پر ٹائمس آف انڈیا نے 1921 ء میں اپنے بمبئی آفس سے پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کے اشتراک سے موسیقی کا ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جسے بمبی سے دو سو کلومیٹر دور ہونے میں سر جارج لائڈ نے سنا۔ جبکہ براڈ کاسٹک ان انڈیا "Broadcasting in India" کے مصنف پی سی چڑجی کا خیال ہے کہ ہندوستان میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز نومبر . 1923ء میں اس وقت ہوا جب کلکتہ میں ریڈیو کلب بنا اور اس نے پروگرام نشر کرنا شروع کیا۔"
(ریڈیو نشریات - آغار وار تقاء : حسن مثنی ، 2006 ایلیا پبلی کیشز ، نئی دہلی ص:23)
1924ء میں بمبئی اور مدراس میں بھی ریڈیو کلب قائم کیے گیے ۔لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے اکتوبر 1927 ء میں مدراس کا پر سیڈنسی ریڈیو کلب بند ہو گیا۔1926ء میں سرابراہیم رحمتہ اللہ کی چیرمین شپ میں انڈین براڈ کا سٹنگ کمپنی قائم ہوئی ۔ اس کے بجٹ کی دیکھ بھال محکمہ صنعت و تجارت کے سپرد کی گئی۔
23 جولائی 1927ء کو ممبئی ریڈیو اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا۔ جبکہ اپریل
1930ء میں مدر اس کارپوریٹس نے براڈ کاسٹنگ شروع کی جو 16 جون 1938 ء تک جاری رہی ۔ دہرادون میں بھی مقامی کوششوں سے 16 اپریل 1936 ء کو ایک ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا۔ جن کا سلسلہ 10 مئی 1938 تک جاری رہا ۔ مالی مشکلات کی وجہ سے یہ اسٹیشن بھی بند ہو گیا۔ کلکتہ میں بھی ایک ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا مگر یہ بھی 1930ء میں بند ہو گیا ۔
ہندوستان میں پہلی بار گورنمنٹ کی اجازت سے 1926 میں انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی نے کمرشیل طور پر نشریات کرنے کی شروعات کی۔ 24 فروری 1930ء کو گورنمنٹ نے "انڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریش“ کا نام بدل کر "انڈین اسٹیٹ براڈ کاسٹنگ سروس" رکھ دیا اور 11 اپریل 1930 سے" لیبر اور انڈسٹریز " مسنری کے ماتحت بھی کر دیا ۔
1 جنوری1934ء کو انڈین وائر لیس ٹیلی گراف ایکٹ نافذ ہوا۔ اس سے پہلے یہ قانون تھا کہ لائسنس کے بغیر ریڈیو سیٹ رکھا تو جا سکتا تھا لیکن سنا نہیں جا سکتا تھا ۔ اس نئے ایکٹ کے بعد بغیر لائسنس کے ریڈیو سیٹ رکھنا بھی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ جس کے اثر سے 31 دسمبر 1933ء تک ریڈیولائنس کی تعداد 10872 سے بڑھ کر 16179 ہو گئی ۔
30 جنوری 1935ء میں بی بی سی کے تجربہ براڈ کاسٹر لائینل فیلڈن کو براڈ کاسٹنگ کا کنٹرولر بنایا گیا۔ حکومت نے بیس لاکھ روپیہ نشریات کی ترقی کے لیے منظور کیا اور دہلی میں ایک 20k w ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا۔ پھر 1 جنوری 1936 کو پہلا پروگرام نشر ہوا ۔ ساتھ ہی ساتھ انڈین براڈ کاسٹنگ کا نام بدل کر آل انڈیا ریڈیو رکھا گیا ۔
پروفیسر شاہد حسین لکھتے ہیں :
"1934 کے آغاز میں دہلی ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی منظوری ملی حکومت نے بیس لاکھ روپیہ نشر یات کی ترقی کے لیے منظور کیا ۔ لہذا دہلی میں ایک 20k.w ٹراسمیٹر نصب کیا گیا جس سے 1 جنوری 1936 ء کو پہلا پروگرام 18 علی پور روڈ سے نشر ہوا۔اسی سال انڈین براڈ کاسٹنگ سروس کا نام بدل کر آل انڈیا ریڈ رکھا گیا۔"
ابلاغیات : پروفیسر شاہد حسین ، 2004 دہلی ۔ ص :10-209
دوسری طرف 1933 میں خود مختار دیسی ریاستوں میں سب سے پہلے نظام حیدر آباد نے ریاست حیدر آباد میں وائرلیس ریڈیو اسٹیشن قائم کیا ۔ حیدر آباد ریڈیو نشریات کو متعارف کرنے کا سہرا چراغ علی کے سر جاتا ہے ۔ حیدرآباد کے علاوہ خود مختار ریاستوں میں اورنگ آباد، میسور، بروڈہ اور تر یوندرم میں بھی ریڈیو اسٹیشن قائم ہوئے۔
دوسری جنگ عظیم میں ریڈیو نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ یعنی اسے پر ویگنڈہ وار کی شکل میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جس میں گولہ بارود کی ضرورت نہیں تھی بلکہ انفار میں اور آواز کے ذریعے جنگ جینے کا مامان فراہم کیا جاتا تھا ۔
مشخصے لکھتے ہیں کہ :
66-لفظی جنگ کے دوران #ریڈیو پرائمری تھا۔ تازہ ترین خبروں کا ماخذ"
کنم سے پہلے 14 ویڈیو اسٹیشن تھے۔ تقسیم کے بعد لاہور پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو اسٹیشن پاکستانی حصے میں چلے گئے۔ ہندوستان میں ہمیں ، کلیک، مدراس، دہلی، لکھنڈا اور شر و چرایلی 6 میں نا ریڈیو اسٹیٹیں آل انڈیا ریڈیو کے مراکز تھے اور پانچ 1950 ریڈیو اسٹیشن خود مختار ریاستوں کے پاس تھے۔ جو یکم اپریل 1 سے آل انڈیا ریڈیو کی تحویل میں آگئے ۔
آل انڈیا ریڈیو پا کا مشوانی کی کمرشل سرویس دودھ بھارتی ہے
یوجین ایس فوسٹر: انڈرسٹینڈنگ براڈکاسٹنگ، P.61
↓
تاریخ:
صفحہ نمبر 7
کا آغاز 1953ء میں ہوا جس سے محصول آمدنی ہوتی ہے ۔ اسی طرح 1944 میں یووانی " پروگرام شروع ہوا جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے پروگرام ہر دور میں مقبول عام رہے ۔ ہوا محل ، انسپکٹر ایگل ، آل انڈیا ریڈیو حیدر آباد سے چھوٹی چھوٹی جائیں اور ادبی پروگرام نیرنگ ، نو جوانوں کا گلدستہ بہت مشہور رہے۔ خبریں تو ہر دور میں اہمیت کی حامل رہیں۔
ایسے دور میں جبکہ ٹیلی ویژن اپنی مقبولیت کی انتہا پر آکر بند ایج عوامی مقبولیت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ریڈیو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر رہا ہے۔ کیوں کہ ویڈیو پروگرام کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہے کہ اسے سنتے ہوئے اپنا اپنا کام کیا جا سکتا ہے بلکہ کام کی روان میں بھی مثبت فرق آتا ہے۔ جبکہ ٹی وی پروگرام کے لیے سب کچھ چھوڑ کر توجہ اس کو دینی پڑتی ہے۔
ریڈیو پروگرام میں سامعین کے لیے جس ، دلچسپی برقرار
تاریخ
صفحہ نمبر
رکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہا کی اور کرکٹ کی کا منٹری ریڈیو سے سننے میں جو لطف آتا ہے وہ ٹی وی میں لائیو ٹیلی کاسٹ دیکھنے میں نہیں آنا۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی کچھ لوگ ٹیلی ویژن کی آواز کم کر کے ریڈیو پر کا منٹری سنتے ہیں ۔
بہر حال آج آل انڈیا ریڑھ ہندوستان کے چپہ چپہ میں اپنے اسٹیشن اور ٹرانسمین مراکز قائم کر چکا ہے ۔ 15 اگست 1993 کو ٹائمس آف انڈیا کے اشتراک سے ٹائمس ایف اہم چینل کا آغاز ہوا ۔ ا د ستمبر 1994 سے الیف اہم چینل ٹائمس سلام کے تحت مدر اس سے نشر ہونے لگا ۔ شاہ میں کلکتہ سے بھی اس کا آغاز ہوا۔ سمبر 1997 میں ملٹی ٹریک ریکارڈنگ اسٹوڈیوگا قیام عمل میں آیا۔
28 ستمبر 1994ء کو بنگلور میں 500 کیلوواٹ کے چار سوپر پاور شارٹ ویو ٹرانسمیٹر کے افتتاح کے بعد بنگلور دنیا کا سب سے بڑا نشریائی سنٹر بن گیا۔ افروری 1995ء کو دہلی میں ایک نیے
تاریخ:
صفحہ
نہیں
9
براڈ کاسٹنگ ہاوز کی بنیاد رکھی گئی۔
2 مئی 1995ء کو آل انڈیا ریڈیو نے انٹرنیٹ پر آن لائن
سرویس کی شروعات کی۔ 13 جنوری 1998ء کو عوام کے اصرار پر انٹر ہوئے۔
آڈیو سہولت فراہم کی گئی۔ یکم اپریل 199 کو تجرباتی طور پر دہلی سے
ڈیجیٹل آڈیو براڈ کاسٹنگ (DAB) کا آغاز ہوا۔
25 فروری 1998ء سے آل انڈیا ریڈیو نیوزان ٹیلیفون، فون ان سوا اور لائیوان انٹرنیٹ جیسے پروگرامس شروع کیے۔ جس سے ریڈیو نے اپنی اہمیت اور شناخت کو برقرار رکھا۔ ایف ایم اسٹیریو چنل منیر نیٹ ورک کے طور پر ملک کے تمام ریاستوں کی راجدھانی اور شہروں میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے ۔
تاریخ
صفحہ نمبر
کتابیات
مشی، حسن ریڈیو نشریات آغاز وارتفاده نئی دہلی ، ایلیا پیلی کیشتر ، 2006
حسین، ڈاکٹر محمد شاہد ابلاغیات، دہلی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس ، 2004 ء
یوجین ایس فوسٹر: براڈکاسٹنگ کو سمجھنا ایڈیسن ویسلی، پب۔ کیلیفورنیا، 1978
فاروقی، ڈاکٹر حسام الدین، اردو زبان کے فروغ میں ریڈیو، ٹیلی ویژن کا حصہ ، نئی دہلی، نیوپرنٹ سینٹر دریا گنج ، 2009 ء
خان، ڈاکٹر توحید، جہاں ابلاغ ، دہلی ، جے کے آفسٹ ، 2015 ء
سروش، رفعت ، آل انڈیا ریڈیو اور اردو، دہلی ، تخفیف آمین پر ترس :
پرویز، ڈاکٹر سید فاضل حسین ، اردو میڈیا کل ، آج کل ، حیدر آباد، بریتی بین 2015
اختر، ڈاکٹر سید سلیمان الکٹرونک میڈیا کی تاریخ ، دہلی ، اصح ۔ ایس ۔ آفسٹ پر نرس : امور
ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین، اردو میڈیا ، سی دہلی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، 12012
سروش، رفعت ، براڈ کاسٹنگ ، نئی دہلی ، لبرٹی ارٹ پریس پٹودی ہاؤس در پانچ 1200
Comments
Post a Comment