کالو ایک بھنگی ہے جو ہسپتال میں کئی سالوں سے کام کرتا ہے ۔ وہ میرے (کرشن چندر ) ذہین پر عرصہ دراز سے سوار ہے کہ میں اسکے بارے میں کوئی کہانی لکھوں ۔ لیکن میں بار بار اس پر کوئی کہانی تحریر کرنے کا سور چتا ہوں پر نہیں لکھ سکتا ہوں ۔ اس کی زندگی میں ہے کیا کہ اس پر کوئی دلچسپ افسانہ یا کہانی رتیب دی جاسکے ۔ اس میں کوئی کشش نہیں ، کوئی ٹیڑھی لکیر نہیں ، کوئی انہونی واردات نہیں ، کوئی عشق و محبت کا فسانہ نہیں کوئی خاندانی تاریخ نہیں کہ کوئی کہانی وجود پا سکے مگر کالو بھنگی ہے کہ کہانی لکھوانے پر مصر ہے اور ڈیوڑھی سے ملنے کا نام نہیں لیتا۔ وہ میرے ذہن کے دریچوں سے اکثر جھانکتا رہتا ہے اور مسکرا کر پوچھتا ہے اور ہے کہ کیوں چھوٹے صاحب ! مجھ پر کہانی نہیں لکھو گئے ؟ لیکن اس کی زندگی جو نہایت ہی میاٹ ، بے رنگ اور بے کیف ہے، پر کوئی عمدہ کہانی، کوئی دلچسپ افسانہ کیوں کر لکھا جا سکتا ہے۔ ایک سیدھے سادے بھنگی پر کوئی لکھ ہی کیا سکتا ہے؟ بس یہی نا کہ کالو بھنگی پچھلے کئی سالوں سے ہسپتال میں مریضوں کا بول و براز صاف کرتا ہے اور ہر وقت اپنی کھردری زندگی اور جھاڑو لیے حاضر رہتا ہے۔ اس نہایت ہی کر یہ بدہیت جسم ، اور زنگ آلود شکل وصورت اور ہڈیوں کے ڈھانچے میں کوئی کشش کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ میں سات سال کا ہوتا ہوں جب میں پہلی بار کالو بھنگی کو دیکھتا ہوں اور میں سال بعد جب وہ مرتا ہے تو اس حالت میں ہوتا ہے ۔ وہی کر یہہ بدہیت جسم اور وہی جھاڑو جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے اٹھائے چلا آ رہا ہے ۔ وہی مریضوں کا بول براز ، ڈسپنسری میں فینائل چھڑکنا، ڈاکٹر صاحب اور کمپوڈر کے بنگلوں کی صفائی، ڈاکٹر کی گائے اور کمپوڈر کی بکری کو چرانے کے لئے جنگل لے جانا اور دن ڈھلتے ہی واپس لے آنا ، انا کھانا تیار کرنا، کھا کر سوجانا ، بس یہی بلا ناغہ وہ پچھلے میں سال سے کرتا آرہا ہے اور ہاں اس دورانیے میں 106 ۔ ہے = - ۔ وہ بھی پیار نہیں ہوتا ہے ۔ یہ امر تعجب خیز ضرور ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ اس پر کوئی کہانی اپنا تانا بنا تیار کرسکتی ہے ۔ لیکن کالو بھگی ہے کہ زبردستی کروارہا ہے کہ میں اس پر کوئی کہانی لکھوں۔ میں اسے کہتا ہوں کہ بس اتنی بات پر کہ وہ بھنگی ہے، اس کے ماں باپ بھنگی تھے اور آبا واجداد بھی یہی کام کرتے آرہے تھے اور پھر تم نے ( کالو بھنگی ) کبھی شادی نہیں کی کبھی عشق نہیں کی ، کبھی دور دراز کا سفر نہیں کیا یہاں تک کہ اپنے گاؤں سے بھی باہر نہیں گئے ۔ ہاں اس میں ایک دلچسپ بات ضرور ہے کہ جانور اس سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی چندیا کو جب گائے سے چٹوا تا ہے تو ایک حسرت آگئیں کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اکثر دو پہر کے وقت سبز گھاس کے مخملیں فرش پر کھلی دھوپ میں ہسپتال کے قریب ایک کھیت کی مینڈھ پر اکڑوں بیٹھ جاتا ہے اور گائے اس کا سر چاٹ رہی ہے اور وہ اونگھ اونگھ کر سو جاتا ہے۔ کالو بھنگی سے انسان نہیں -حیوان محبت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی گائے تو اس پر جان چھڑکتی ہے اور کمپوڈر کی بکری بھی حالانکہ بکری -بڑی بے وفا ہوتی ہے ، عورت سے بھی بڑھ کر ، لیکن کالو بھنگی کی اور بات ہے ۔ اس لئے کہ ان دونوں -جانوروں کو پانی پلائے تو کالو بھنگی ، چارہ کھلائے تو کالو بھنگی ، جنگل میں چرائے تو کالو بھنگی ، مویشی خانے میں باندھے تو کالو بھنگی اس لئے وہ (جانور) کالو بھنگی کے ایک ایک شمارے کو سمجھتے ہیں اور کالو بھنگی کی محبت کا صلہ محبت سے دیتے ہیں۔ اور ہمیشہ کا لوبھنگی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اس گائے اور بکری کے علاوہ ایک النگڑا کتا بھی ہوتا ہے جو کالو بھنگی کا بڑا گہرا دوست ہے ۔ وہ چونکہ لنگڑا ہوتا ہے اس لئے دوسرے کتوں کے ساتھ چل پھر نہ سکتا ہے ۔ وہ اکثر اپنے لنگڑے پن کی وجہ سے دوسرے کتوں سے پٹتا اور زخمی رہتا۔ کالو بھنگی اس کی مریضوں کی طرح تیمار داری کرتا اور زخموں پر مرہم پٹی بھی کرتا ۔ حالانکہ یہ کتا بڑا ہی خود غرض واقع ہوا ہے۔ یہ کالو بھنگی سے دن میں صرف دو مرتبہ ملتا ہے ۔ دو پہر کو اور شام کو صرف کھانے کے وقت اور زخموں پر مرہم لگوا کر پھر گھومنے چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کالو بھنگی اس سے بڑے تپاک سے ملتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کالو بھنگی کی جنگل کے ہر جانور ، چرند اور پرند سے شناسائی ہوتی ہے ۔ وہ ان کی زبان سمجھتا ہے اور اس کا جواب بھی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مکی کا بھٹا بھی بڑی محنت اور تیکنیک سے پکا تا کہ کھاتے ہی بنتی ہے۔ میں اس کے پکائے ہوئے بھٹے بڑے شوق سے کھاتا ایک دفعہ میں کھاتے پکڑا جاتا ہوں اور والدین کے ہاتھوں میں بھی پٹا اور کالو بنگی بھی، مگر کالو بھنگی دوسرے دن پھر جھاڑ ولیکر پہلے کی طرح حاضر ہوتا۔ اس کے علاوہ کالو بھنگی کی زندگی میں کوئی خاص بات نہیں ، ہاں اس کا کردار کبھی کبھی میری توجہ کو اپنی جانب مبذول ضرور کرتا اور ہمیشہ کا غذ قلم ساتھ رکھتا اور اس سے سوال کرید تا کہ کالو بھنگی تمہاری زندگی میں کوئی خاص بات ہے۔ جب جواب نفی میں ملتا تو میں اس سے اس کی تنخواہ سے متعلق پوچھتا تو وہ انگلیوں پر گنتا کہ 107
آٹھ روپے ہے۔ چار روپے کا آٹا ایک کا نمک ، ایک روپے کا تمباکو، آٹھ آنے کی چائے ، چار آنے کا گڑ ، چار آنے کا مصالحہ اور ایک روپیہ ہر ماہ پینے کو جاتا ہے۔ پھر وہ کہتاہ کہ اگر بڑے صاحب ایک روپیہ بڑھا دیں تو مزا آ جائے میں پوچھتا وہ کیسے؟ وہ کہتا کہ ایک روپے کا گھی لاتا اور مکی کے پراٹھے کھاتا۔ اس لئے کہ پراٹھے کبھی نہیں کھائے چھوٹے صاحب ابڑا جی چاہتا ہے ۔ اب ان آٹھ روپیوں میں کوئی کیا افسانہ لکھے یا کہانی ترتیب دے۔ پھر میں کالو بھنگی سے پوچھتا کہ تم نے بیاہ کیوں نہ کیا ؟ دور تک کوئی بھگی نہیں ہے۔ پھر میں پوچھتا کہ کیوں کالو بھنگی کبھی عشق کیا تم نے ؟ تو وہ بڑی معصومیت سے جواب دیتا کہ چھوٹے صاحب یہ عشق کیا ہوتا ہے؟ ہم نے تو کبھی اس عشق وشق کے بارے میں نہیں سنا۔ پھر میں تھک ہار کر کالو بھنگی سے متعلق کچھ لکھنے کا ارادہ ترک کر دیتا ہوں ۔ پھر آٹھ سال ہوئے کالو بھنگی مر جاتا ہے ۔ وہ کبھی بیمار نہیں ہوتا ہے لیکن ایکدن ایسا بیمار ہوتا ہے کہ پھر بھی نہیں اٹھتا ۔ اسے ہسپتال میں بھرتی کر دیا جاتا ہے۔ وہ الگ وارڈ میں رکھا جاتا ہے۔ کمپور ڈر دور سے اسکے حلق میں دوا انڈیل دیتا اور ایک چپراسی اس کے لئے کھانا رکھ آتا۔ وہ اپنے برتن خود صاف کرتا ، بستر ا خود درست کرتا اور یہاں تک کہ بول و براز بھی خود ہی صاف کرتا ۔ پھر وہ اچانک مر جاتا ہے اور پولیس والے اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دیتے ہیں اس لئے کہ اس کا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ اور جس روز وہ مر جاتا ہے اس روز بھی کوئی خاص بات نہیں ہوتی ۔ روز کی طرح ہسپتال کھلتا ہے، ڈاکٹر صاحب اور کمپوڈر دوا لکھتے ہیں مریض دوالیکر گھر لوٹ جاتے ہیں ۔ پھر روز کی طرح ہسپتال بند ہوتا ہے اور گھر آن کر ہم سب آرام سے کھانا کھاتے اور سو جاتے ۔ ہاں ڈاکٹر صاحب کی گائے اور کمپوڈر کی بکری سوگ مناتے ہیں ۔ دو روز تک چارہ اور پانی کو منہ تک نہیں لگا تیں بلکہ وارڈ کے باہر کھڑے کھڑے بیکار چلاتی رہیں۔
کالو بھنگی اس کے باوجود اپنا جھاڑ لیکر پھر میرے سامنے آکھڑا ہو جاتا ہے میں نے سب کچھ لکھ دیا ہے۔ اب باقی بچاری کیا ہے اور لکھنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تو سب کچھ لکھ دیا ہے کہ تمہارا نام کا لوبھگی ، پیشہ بھنگی، کبھی علاقے سے باہر نہیں گئے ، کبھی شادی نہیں کی ، کوئی عشق نہیں کیا، زندگی میں ہنگامی واردات پیش نہیں آئی۔ تنخواہ آٹھ روپے اور بس اتم سے تو بہتر خلجی ہے اس پر کوئی کہانی لکھی جاسکتی ہے ۔ وہ یوں کہ ہسپتال میں کمپوڈر ہے۔ بتیس روپے ماہانہ آمدنی ہے۔ سرکاری بنگلہ نما کوارٹر ہائش کے لئے ملا ہوا ہے ۔ اچھا کھاتا پیتا ہے خوش لباس ہے ۔ ڈاکٹر اگر فیس لینے میں چوک جائے تو یہ فیس بھی جھاڑ لیتا ہے اور ہسپتال میں خوبصورت مریضاؤں سے عشق بھی لڑا لیتا ہے۔ نوراں کا قصہ تو اس کا واضح ثبوت ہے ۔ سولہ سترہ سال کی لڑکی ہے۔ دو، دو عشق قبول کیے بیٹھی ہے۔ نمبر دار کے لڑکے کو بھی دل دے بیٹھی ہے اور پٹواری کے لڑکے کو 108
بھی ۔ گویا دو کشتیوں پر سوار ہے ۔ دونوں سے شادی کا اقرار کر چکی ہے اور دونوں پر مرتی ہے۔ نتیجہ یہ انا ہے کہ دونوں کے ہاں رقابت کی آگ بھڑکتی ہے۔ اور دونوں لڑتے لڑتے لہولہان ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر دونوں نوراں پر وار کرتے ہیں اور اسے زخمی کر دیتے ہیں ۔ نوراں ہسپتال پہنچ جاتی ہے ۔ ہسپتال میں کمپوار خلجی نوراں پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور نوراں بھی خلجی کو دل دے بیٹھتی ہے ۔ نوراں سے پہلے خلجی بیگماں ریشماں اور جانگی سے بھی نا کام معاشقہ کر چکا ہوتا ہے شاید اس لئے کہ وہ تمام عورتیں شادی شدہ ہوتی ہیں ۔ ادھر نوراں کو ہسپتال میں لکھنے کے لئے نمبر دار اردو پٹواری کے لڑکے بھی آتے ہیں۔ لیکن اب نوراں ان سے گھبراتی ہے۔ نوراں آہستہ آہستہ صحتیاب ہو جاتی ہے تو پورا گاؤں نوراں کو دیکھنے کے لئے اٹ آتا ہے ۔ آخر نوراں بھی اپنے ماں باپ اور سینکڑوں گاؤں کے لوگوں کے ہمراہ اپنے گاؤں لوٹ جاتی ہے اور طلبی وارڈ کی دیوار کے ساتھ لگ کر سکیاں لینے لگتا ہے ۔ حالانکہ خلجی ایک رومانی نو جوان ہے اور اس کی زندگی بھی کسی قدر پر کیف اور پرکشش ہوتی ہے مگر کا لوبھنگی کی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی کالو بھنگی ہے کہ اپنے اکھڑے پہلے پہلے گندھے دانت نکالے اور ہاتھوں میں جھاڑو لیے میرے سر پر سوار ہے کہ میں کچھ اس کے بارے میں مزید لکھوں۔ اب میں اس کے لئے بختیار چپراسی کا سہارا لیتا ہوں جس کی تنخواہ پندرہ روپے ماہوار ہے، گاؤں میں اپنی زمین ہے ، ایک چھوٹا سا مکان بھی ہے۔ شادی شد ہے اور جب ایک بار بختیار کی ماں اپنی بہو سے جھگڑ کر گھر سے چلی جاتی ہے تو اس کی تلاش اور واپسی میں کالو بھنگی ساتھ دیتا ہے۔ لیکن بختیار کی زندگی میں پھر بھی افسانے میں گر کالو بھنگی تمہاری زندگی میں کیا ہے؟ شاید کچھ بھی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود کالو بھنگی میرے سامنے کھڑا ہے کہ میں کچھ اور لکھوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ تو کیا چاہتا ہے؟ اچھا سن ا تو یہ چاہتا ہے کہ کوئی تیرے کھردرے پاؤں دھو ڈالے، تیری زندگی میں رنگ بھر دے، تیرے ہاتھوں سے یہ ملیظ جھاڑو لے لے ۔ تیری چند یا کو گھنے بالوں کی زلفین عطا کرے۔ تو یہ چاہتا ہے کہ تیری بیوی ہو، قہقہے لگاتے بچے ہوں ، تیرے رہنے کے لئے مکان ہوا اور سماج میں تیری عزت ہو۔ لیکن سن ا یہ کام میں اکیلے نہیں کر سکتا جب تک ڈاکٹر کمپوڈر، نمبر دار اور پٹواری گاؤں اور شہر، مزدور اور حاکم اور سیاست داں اور مذہبی ٹھیکیدار ۔ یہ سب مل کر یہ کام نہ کریں ۔ حالانکہ یہ کام بہت مشکل ہے۔ یہ بھر پور زندگی ممکن نہیں جب تک تو جھاڑو لیے یہاں کھڑا ہے ۔ اچھا تو کھڑارہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا آئے جو تیرے ہاتھوں سے یہ غلیظ جھاڑولے لے اور ان میں قلم تھمادے۔
Comments
Post a Comment