ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء-معاشرے پر ٹیلی ویژن کے مثبت اور منفی اثرات

       ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء

                         ٹیلی ویژن موجودہ زمانے کا موثر ذریعہ ابلاغ ہے اور یہ انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ اس کے اثرات اخبار ،ریڈیو اور فلم کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ لفظ ٹیلی ویژن دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ٹیلی یونانی لفظ ہے جس کے معنی بہت دور سے اور ویژن لاطینی لفظ ہے جس کے معنی دیکھنا یا  دیکھائی دینا ہے۔اس طرح ٹیلی ویژن کے معنی بہت دور کی چیز کو دیکھنا ہے۔

                 ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل ریڈیو مواصلات کا اہم ذریعہ تھا ۔ اور بغیر آواز کی محرک فلم بھی پردے پر پیش ہونے لگی تھی ۔ جلد ہی سائنس دانوں نے تصویر کی حرکت اور آواز کو ایک ساتھ پیش کرنے اور پھر ان دونوں کو لہروں میں بدل کر دور تک بھیجنے اور ان لہروں کو دوبارہ تصویر اور آواز کی شکل میں حاصل کرنے کے طریقے ایجاد کر لیے جو ٹیلی وژن کے ایجاد کا ذریعہ بنے ۔ ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغار سب سے پہلے 1920 ء میں امریکہ میں ہوا۔ یہ نشریات تجرباتی طور پر ہوئی تھیں ۔ اس وقت تصویر کو بدلنے کی رفتار کم تھی ۔ اس لیے وہ آج کی طرح زندہ جاوید اور چلتی پھرتی تصویر میں محسوس نہیں ہوتی تھیں۔ لیکن ٹیلی ویژن کے ابتدائی تجربات فائدہ مند رہے۔ اور بہت جلد ٹیلی ویژن کا خواب حقیقت بنا ۔ 1936 میں بی بی سی نے دنیا کی پہلی ٹیلی ویژن سرویس کا آغاز کیا۔

                      1940  تک امریکہ میں بھی ٹیلی ویژن کو فروغ حاصل ہو گیا اور دور تک ٹیلی ویژن کی نشریات بھیجی جانے لگیں۔ امریکہ میں RCA  ،NBC نشریات کمپنیاں شروع ہوئیں اور 1950 ء تک وہاں رنگیں ٹیلی کاسٹ کا بھی آغاز ہو گیا۔ 

                     ہندوستان میں ٹیلی ویژن کی ابتدا 15 ستمبر 1959 ء سے یونیسکو کے ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ہوئی ۔جس کے تحت یہ معلوم کیا گیا کہ یہاں پسماندہ طبقات کی تعلیمی ترقی میں ٹیلی ویژن کسی قدر فائدہ مند ہو سکتا ہے۔  1961 میں آل انڈیا ریڈیونے اسکول ٹیلی ویژن کے نام سے ٹیلی ویژن پروگرام شروع کیا۔ جس کے لیے دہلی اور اطراف کے علا قوں میں ٹیلی ویژن سیٹ لگا ہے گیے اور دہلی میں پانچ سو واٹ کا ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا۔ 1965ء تک ہفتہ میں صرف ایک دن ایک گھنٹے کے پروگرام نشر ہوتے تھے۔ 

                  1965 سے روزانہ ایک گھنٹے کے پروگرام پیش کیے جانے لگے جن میں کچھ تفریحی پروگرام بھی ہوا کرتے تھے۔ 1976 ء تک ہندوستان میں ٹیلی ویژن کے لیے علیحدہ محکمہ نہیں تھا۔ اسی برس دور درشن کے نام سے ٹیلی ویژن کے لیے علیحدہ محکمہ کام کرنےلگا۔ 1982ء میں ہندوستان میں ایشیائی کھیلوں کا انتقاد عمل میں آیا۔ اور یہاں ٹیلی ویژن نشریات میں بھی انقلابی تبدیلیاں آئیں۔ مواصلاتی سیاروں اور ٹرانسمیٹروں کے ذریعے ملک کے دور دراز علاقوں میں ٹیلی ویژن نشریات کا آغاز کیا گیا۔ دہلی میں منعقدہ ایشیائی کھیلوں کو براہ راست ملک بھر میں ٹیلی کاسٹ کیا گیا اور اسی سال ہندوستان میں رنگین ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا اور ملک بھر میں ٹیلی ویژن کو مقبولیت ملی۔ ملک کا پہلا کامیاب ٹیلی ویژن سیریل "ہم لوگ " 1984 میں دکھایا گیا۔ ٹیلی ویژن کے ذریعے اشتہارات کو فروغ ہوا ۔ 1992 میں بیرونی سٹلائٹ چینل دکھائے جانے لگے ۔ ڈش انٹینا اور کیبل ٹی وی کے ذریعے ناظرین کو ان کی پسند کے کھیل اور تفریح کے چینل ایک سےزیادہ دکھائے جانے لگے۔ جو چوبیس گھنٹے پروگرام پیش کرتے تھے ۔ اسٹار، زی اور سونی ٹی وی نے نشریات کی دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقائی زبانوں میں بھی اس طرح کے کئی چینل شروع ہو گیے۔ 

               حکومت نے کیبل ٹی وی کی بڑھتی ہوئی تجارت کے پیش نظر 1995 ء میں کیبل آپریٹروں کو باقاعدہ بنانے کے لیے قانون سازی کی۔ عوام پر تفریحی Tax عائد کیا گیا ۔ اس طرح ہندوستان میں ٹیلی ویژن کی شروعات توست رفتار رہیں لیکن سٹلائیٹ چینلوں کی آمد کے بعد یہاں ٹیلی ویژن کی مقبولیت بہت بڑھ گئی اور کئی بیرونی ادارے اور ان کے چینل ہندوستان میں اپنے پروگرام پیش کرنے لگے۔


   معاشرے پر ٹیلی ویژن کے مثبت اور منفی اثرات          

                   آج کے اس نیے دور میں بہت سے سائنسی آلات کی ایجاد نے انسانوں کو فائدے   اور سہولیت بخشی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک مشہور آلہ ہے ٹیلی ویژن جس کو اسکاٹ لینڈ کے مشہور سائنسدان  پیلو فرنس ورتھ (Philo Faires worth)نے بنایا الیکٹرانک  ٹیلی ویژن  (Electronic T.V) جس سے اب دنیا جہاں کے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ T.V سے ہمیں فائدہ زیادہ اور نقصانات

کم ہیں۔ اکثر سننے میں آتا ہے کہ ٹیلی ویژن کی وجہ سے بچے بگڑ رہے ہیں ، عورتیں بگڑ رہی ہیں۔ ٹیلی ویژن سیریلس دیکھ کر گھریلو ماحول خراب ہو رہے ہیں ، ساس بہو میں جھگڑا ہو رہا ہے اور بہو بیٹیاں بھی نافرمان ہو رہی ہیں۔ یعنی سارا معاشرہ بگڑ رہا ہے ۔ یہ بات ہم آسانی سے کہہ رہے ہیں جب  کہ آج کے دور کے لوگ تعلیم یافتہ  ہیں۔  اچھے برے کی انہیں رہے ہیں جب پہچان ہے۔ مگر پھر بھی ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ ۔ میرے خیال میں معاشرے میں بے حد برائیاں پھیل رہی ہیں اور بہت سارے بدلاو بھی آرہے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ کیوں کہ ہم ٹیلی ویژن کا صحیح استعمال نہیں جانتے ۔ اگر ٹیلی ویژن کا صحیح استعمال جان لیں تو اس سے کئی فائدے ہو سکتے ہیں۔

 ٹیلی ویژن کے مثبت اثرات :-

                   تعلیم و تربیت کے لیے ٹیلی ویژن بہت ہی مفید ہے۔ اس کے ذریعہ جو تعلیمی لیکچر، فیچر یا ڈرامے نشرکیے جاتے ہیں وہ کافی شاندار اور متاثر کن ہوتے ہیں۔ اس پر ادبی ، تعلیمی، ثقافتی اور اقتصادی پروگرام نشر ہوتی ہیں جن سے دیکھنے والوں کو کافی واقفیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے ذریعے ہر قسم کے لوگوں کے لیے عمدہ عمدہ پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ صحت وصفائی کے اصول کھیتی باڑی کے نیے نیے طریقے سیکھا ئے جاتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ترقی کا واحد ذریعہ ٹیلی ویژن ہی ہے۔

                      ٹیلی ویژن کے ذریعے درس قرآن ، درس حدیث اور کئی ایک  علماء کے  بیانات سننے کو ملتے ہیں۔ جن کی بنا پر ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیا ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل دنیا میں برائی نہیں تھی تب بھی لڑائی جھگڑا ، قتل و غارت گری، خون خرابہ اور زنا کاری وغیرہ عام تھی ۔ اور آج بھی ہے ۔ دنیا میں یہ سب ہوتا آرہا ہے ۔ آج ٹیلی ویژن کو برا کہنا ایک عام بات ہوگئی ہے۔ کچھ لوگ ٹیلی ویژن کو فتنہ دجال کہتے ہیں۔ در اصل یہ ہماری دماغ کی کمزوری ہے ۔ کسی بھی چیز میں مثبت اور اور منفی دونوں چیزیں ہوتی ہیں اسی طرح ٹیلی ویژن میں اچھائی اوربرائی دونوں ملتی ہیں ہم بری چیز میں اور غلط تصویریں نہ دیکھیں۔ ٹیلی ویژن در اصل ایک لازمی آلہ ہے جس کی ضرورت انسانی زندگی کو ہے۔ اگر اس کا ہم صحیح استعمال کریں تو یہ آلہ ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا۔  ٹیلی ویژن میں پکوان کے طریقے بتا یے جاتے ہیں۔ ڈسکوری چینل بھی ایک اچھا چینل ہے اس کے حوالے سے ہم مفید معلومات کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹیلی ویژن میں بہت سارے چینل ہوتے ہیں اس میں سے کچھ اچھے چینل ہیں اور کچھ غیر ضروری چینل تو جو چینل ہم کو پسند ہیں اس کو رکھ سکتے ہیں اور جو چینل ہم کو نہیں چاہیے اگر  SETUP BOX گھر میں ہے تو ہم ناپسندیدہ چینلس کو child lock کر سکتے ہیں۔ جو چینل نہیں چاہیے اس کو کٹ کر سکتے ہیں۔ 

                      یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ٹیلی ویژن کے ذریعے دنیا بھر کی نیوز ، دیکھ اور  سن سکتے ہیں۔ سائنسی معلومات ، سیاسی معلومات ، ، سماجی معلومات ، تاریخی مقامات اور معلومات وغیرہ سے ہم ٹیلی ویڑوں کے ذریعے واقف ہو سکتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ تمام لوگ ساری دنیا تو گھوم کر نہیں دیکھ سکتے لیکن ہم سب گھر بیٹھے ٹیلی ویژن  کے ذریعے دنیا کا سیر کر سکتے ہیں ۔ ٹیلی ویژن کے ذریعے ہم قدرت کے نظارے کو گھر بیٹے دیکھ سکتے ہیں ۔ سمندر کی تہہ تک کا نظارہ ہم ٹیلی ویژن کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔ اونچے اونچے پہاڑ، زمین اور خلاء بھی ہم دیکھ سکتے ہیں۔

 ٹیلی ویژن کے منفی اثرات :

                      آج کے دور کو سائنس کی ترقیاتی اور چمک و دمک کا دور کہا جاتا ہے اور اس کی ایجادات میں سب سے زیادہ اور سب سے تیزی کے ساتھ فروغ پانے والی ایجاد الیکٹرانک میڈیا ( برقی ذرائع ابلاغ) ہیں جن کی ایک قسم ٹیلی ویژن ہے جو بذات خود تو بری نہیں لیکن اس کا بیجا استعمال ضرور نقصان دہ ہے ۔ جاپانی سائنس دانوں کی جانب سے ایک طویل مطالعہ کیا گیا جو تقریباً 20 سال تک جاری رہا ۔ مطالعہ میں انکشاف ہوا کہ وہ لوگ جو روزانہ ڈھائی سے دو گھنٹے تک ٹی وی دیکھتے ہیں ان کے پھیپھڑوں میں خون کے لوتھڑے جنے کے باعث ہلاک ہونے کا امکان 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ روز انہ ٹی وی دیکھنے کے دو ر اپنے میں ہر دو گنے کے اضافے پر اس طرح سے ہلاکت کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ یعنی 250 فیصد ان لوگوں کے لیے ہے جو روزانہ 5 گھنٹے سے بھی زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں میں خون کے لوتھڑے جمنے کے ظاہری علامات میں ہے سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری وغیرہ شامل ہیں جو دیگر امراض کی علامتوں سے بہت مشابہت رکھتی ہیں ۔

                   ٹیلی ویژن کے پھیلاؤ کا یہ عالم ہے کہ آج ہر گھر میں اس کی پہنچ ہو گئی ہے۔ کھاتے پیتے شہری ہی نہیں ، جھگیوں  میں رہنے والے بھی ٹی وی دیکھ کر اپنی تفریح کا سامان کر لیتے ہیں خاص طور پر جب سے سیٹلائٹ چینل اور کیبل ٹی وی کا چلن بڑھا ہے تو ٹی وی کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے ، اب رات و دن اس کے مختلف پروگرام الگ الگ چینلوں میں دکھائے جاتے ہیں اور گھر کے سبھی ممبر چھوٹے ہوں یا بڑے بچے ہوں یا بوڑھے ان کو دیکھتے ہیں اور جب کوئی مقبول پروگرام آتا ہے تو گھر کے لوگ تمام کام و کاج چھوڑ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں یہاں تک کہ ضروری کاموں کی بھی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔

                     معاشرے میں سب سے زیادہ تشویش اس بات کو لے کر ظاہر کی جارہی ہے کہ ٹی وی ،پروگرام بچوں کی تعلیم کو بہت متاثر کر رہے ہیں۔ یورپ و امریکہ کے ماہر ین تعلیمات نفسیات اور عمرانیات کی طرف سے جب اس پر خصوصی تحقیق کی گئی تو انہیں اندازہ ہوا کہ ٹی وی اسکرین کے سامنے زیادہ وقت صرف کرنے والوں بچوں کی تعلیم ہی برباد نہیں ہوتی بلکہ والدین سے ان کے تعلقات میں بھی فرق آتا ہے۔ بچے اور ان کے ماں باپ کے درمیان کا فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ پہلے بچے رات کو سوتے وقت اپنے بڑے بوڑھوں کے ساتھ ہنستے بولتے اور ان سے کہانیاں و قصے سنتے تھے ، کئی وہ باتیں پوچھ لیتے تھے جو انہیں معلوم نہیں ہوتیں، ان موقع سے بچوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں کافی مدد ملتی۔ ان کا دماغ سوچنے اور عمل کرنے کے قابل بنتا تھا۔ اب والدین اور بچوں کا باہم مل بیٹھنا ٹی وی کی نذر ہو گیا ہے اور بچوں کے سیکھنے کے مواقع پر ٹی وی کی تفریحات غالب آگئی ہیں ۔

 خلاصہ کلام یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اچھی یا بری نہیں ہوئی اس کےمختلف پہلو ہوتے ہیں اس طرح ٹیلی ویژن جو بذات خود بری نہیں لیکن اس کے بیجا استعمال ضرور نقصان دہ ہے۔ ٹیلی ویژن کے مثبت پہلو کو دیکھا جائے تو تعلیم و تربیت کے لیے وہ بہت ہی مفید ہے۔ 


Comments

Popular posts from this blog

مضمون نگاری کی تعریف اور اس کے اصول

مضمون کی قسمیں

تخلیقی نثر