ب
علم بیان کی تعریف :-
(1)تشبیہ (2) استعارہ
(3) مجاز مرسل (4) کنایہ
تشبیه (Simile)
تشبیه: کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں کسی نہ کسی طرح کی مشابہت کا ہونا ضروری ہے۔
میر تقی میر کا یہ شعر
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
اس شعر میں لب ( ہونٹ ) کو گلاب کی پنکھڑی کے مانند بتایا گیا ہے۔
تشبیہ کے چار اجزا ہیں :
(1) مشبه (2) مشبہ بہ
(3)وجہ یا تشبیہ (4) حرف تشبیہ
(1) مشبه: جس چیز کی تشبیہ دی جائے جیسے : لب کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دی گئی ہے اسے مشتبہ کہتے ہیں۔ (لب)
(2) مشبہ بہ: جس چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے جیسے : گلاب کی پنکھڑی سے لب کو تشبیہ دی گئی ہے۔ ( گلاب کی پنکھڑی)
(3)وجہ یا تشبیہ: ایک شے کو دوسری شے سے تشبیہ دینے کی کوئی وجہ یا غرض ہوتی ہے جیسے: نازک سرخ لب کو گلاب کی پنکھڑی اس لیے کہا گیا کہ گلاب کی پنکھڑی نازک اور سرخ ہوتی ہے۔ ان دونوں میں نزاکت اور سرخ رنگ وجہ تشبیہ / وجہ شبہ ہے ۔(4) حرف تشبیہ: وہ لفظ جو تشبیہ کو ظاہر کرے۔ میر کے اس شعر میں لفظ ”سی“ حرف تشبیہ ہے۔ "سی "کے علاوہ جیسا، ایسا، ویسا، سا، مانند، طرح، گویا ، یوں، وغیرہ الفاظ بھی تشبیہ کو ظاہر کرتے ہیں، یہ حروف تشبیہ ہیں۔
استعاره (Metaphor)
استعاره : وہ لفظ جو اپنے اصلی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے اور دونوں معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہو، اُسے استعارہ کہتے ہیں۔
حسرت موہانی کی غزل کا درج ذیل مطلع پڑھیے اور غور کیجیے کہ انھوں نے محبوب کی تعریف کے لیے کیا الفاظ استعمال کیے ہیں :
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہ کا ہوا ہے آتش گل سے چمن
تمام
دوسرے مصرعے میں آتش گل استعمال ہوا ہے۔ آتش گل سے مراد ہے دہکتا ہوا پھول یا بہت خوبصورت پھول ۔ شاعر نے اس مصرعے میں یہ نہیں کہا کہ اس کے محبوب کا حسن آتش گل کی مانند ہے۔ اس نے صرف آتش گل کہا اور ہم نے سمجھ لیا کہ اس کا مطلب دیکھتا ہوا پھول نہیں بلکہ جمال یار یعنی محبوب کا حسن ہے۔ یہاں لفظ کو اپنے اصل معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
استعارہ لفظ مستعار سے بنا ہے جس کے معنی ادھار لینا ہے۔ اس لیے استعارے میں لفظ اپنے لغوی معنی کے بجائے کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ دونوں لفظوں کے مابین کسی خصوصیت کی بنا پر تشبیہ کا تعلق ضرورپایا جاتا ہے۔استعارے اور تشبیہ میں گہرا تعلق ہے۔ تشبیہ ہی کی طرح استعارے میں مشتبہ اور مشبہ بہ ہوتے ہیں۔ تاہم استعارے میں مشبہ کو مستعار لہ اور مشبہ بہ کو مستعار منہ کہا جاتا ہے۔
ان دونوں کے مابین ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ تشبیہ میں کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کے جیسا بتایا جاتا ہے اور اس کے اظہار کے لیے حرف تشبیہ یعنی جیسا کی طرح ، مانند وغیرہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں جب کہ استعارے میں یہ الفاظ نہیں ہوتے۔
نیچے دی ہوئی مثالوں کو دیکھ کر یہ فرق اور واضح ہو جائے گا:
استعاره
زید رستم کی طرح ہے
زید رستم ہے
احمد فرشتے جیسا ہے
احمد فرشتہ ہے
شکیلہ چاند کی مانند ہے
شکیلہ چاند ہے
عام طور پر استعارے میں صرف مستعار منہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد مستعار لہ ہوتا ہے۔ سیدھے سادے انداز میں اسی بات کو یوں سمجھیے کہ استعارے میں جس چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے صرف اس کا ذکر کر دیتے ہیں اور اس سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جسے تشبیہ دی گئی ہے۔
مثال کے طور پر مثنوی سحر البیان میں جب شہزادہ بے نظیر کو پری چھت سے اٹھالے جاتی ہے تو بادشاہ کا رد عمل اس طرح ہوتا ہے۔
کہا شہ نے واں کا مجھے دوپتا عزیزو! جہاں سے وہ یوسف گیا
یوسف جیسا بے نظیر کہاں سے گیا۔ صرف یوسف کہنے سے ہی ہم نے سمجھ لیا کہ یہ بے نظیر کا استعارہ ہے۔
کنایہ
مجاز مرسل
یہ شعر پڑھیے۔
غضب آنکھیں، ستم ابرو ، عجب منہ کی صفائی ہے
خدا نے اپنے ہاتھوں سے تری صورت بنائی ہے
دوسرے مصرعے لفظ ہاتھوں اپنے اصلی یا حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے ۔ اس سے مراد خدا کی
قدرت ہے۔
جب کسی لفظ کو اس کے اصل معنی کے بجائے مجازی یا دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے تو ، اسے مجاز مرسل کہتے ہیں ۔
حالی کا ایک شعر
ہنر کا جہاں گرم بازار ہے اب جہاں عقل و دانش کا بیوپار ہے اب
اس شعر میں گرم بازار ہونا سے مراد ترقی “ ہے۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اب جو لوگ ہنر مند ہیں، وہی ترقی کر رہے ہیں۔ شاعر نے براہ راست بات نہ کہہ کر شاعرانہ انداز سے شعر میں ایک معنوی خوبی پیدا کر دی ہے۔
علم بدیع
کلام میں حُسن ، اثر اور زور پیدا کرنے کے لیے اسے بہت سی خوبیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ قواعد کی ، زبان میں انھیں ہم صنائع بدائع کے نام سے جانتے ہیں۔ ضائع صنعت کی جمع ہے۔ اس کا مطلب ہے کاری گری /ہنر مندی اور بدائع بدیع کی جمع ہے۔ اس کا مطلب ہے تازگی اور انوکھا پن۔
بدیع وہ علم ہے جس سے کلام کے معنوی یا ظاہری حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔ بدیع کو علم معنی بھی کہتے ہیں۔ اس علم کے تحت کلام میں استعمال ہونے والی مختلف صنعتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
صنائع بدائع کو شاعری کا زیور کہا گیا ہے۔ ان سے شعر کو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سجایا جاتا ہے۔
شعر میں صنعتوں کا استعمال بذات خود شاعری کا مقصد نہیں اور نہ ہی کسی صنعت کا استعمال شاعری کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ لیکن ان سے شعر کے حسن اور تاثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شعر میں لفظی اور معنوی دو طرح کی خوبیاں ہوتی ہیں۔ اس لیے انھیں صنائع لفظی اور ضائع معنوی میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
صنائع لفظی سے مراد وہ خوبیاں ہیں جو الفاظ کو خصوصی رعایت اور ہنر مندی کے ساتھ استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ شعر کی لفظی خوبیاں ذہن کو کلام کی فکری و معنوی خوبیوں کی طرف لے جائیں تو انھیں صنائع معنوی“ کہتے ہیں۔ no
تجنيس
یہ شعر غور سے پڑھیے:
گلے سے ملتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے
وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا
اس شعر میں لفظ گلے اور گلے املا کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں مگر تلفظ اور معنی کے اعتبار سے مختلف تجنیس کے لغوی معنی ہیں ایک جیسا / یکساں۔
کلام میں دو یا دو سے زیادہ ایسے الفاظ جو تلفظ یا املا کے لحاظ سے تو ایک جیسے ہوں ، مگر معنی کے اعتبار سے مختلف ہو تو شعر کی یہ خوبی تجنیس کہلاتی ہے۔“
ذیل میں تجنیس کی کچھ اور مثالیں پڑھیے:
دل میں پیدا ہمت پروانہ کر آدمی کہتے ہیں جس کو ایک پتلا کل کا ہے
ورنہ مرغ شوق کی پروا نہ کر پھر کہاں کل اس کو گر کل ہو ذرا بگڑی ہوئی
b
66
لف ونشر
to
یہ شعر پڑھیے:
نہ ہمت نہ دل ہے نہ قسمت نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا، نہ سمجھا، نہ پایا، نہ دیکھا یہاں پہلے مصرعے میں 'ہمت، دل، قسمت اور آنکھیں الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ پھر ان کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں الفاظ لائے گئے ہیں : ہمت کے لیے ڈھونڈا ، دل کے لیے سمجھا ، قسمت کے تعلق سے پایا اور آنکھیں کے واسطے دیکھا شعر میں اس سے معنوی خوبی پیدا ہوگئی ہے۔
اردو قواعد اور انشا
شعر میں پہلے چند چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کرنا پھر ان کی مناسبت سے وضاحت کرنا، لف و نشر MA
لف کے معنی لپیٹنا اور نشر کے معنی پھیلانا ہیں۔ جیسا کہ پہلے مصرعے میں چند چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کیا گیا، یہ لف ہے ۔ پھر ان کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں بات کو پھیلا یا گیا، یہ نشر ہے۔ لف و نشر کی دو قسمیں ہیں: مرتب اور غیر مرتب ۔
لف و نشر مرتب سے مراد یہ ہے کہ پہلے مصرعے میں الفاظ کی جو ترتیب ہو، اسی نسبت سے دوسرے مصرعے میں وضاحت کی جائے جیسا کہ اوپر کے شعر میں آپ نے دیکھا۔
لف و نشر غیر مرتب سے مراد یہ ہے کہ پہلے مصرعے کی ترتیب کے مطابق دوسرے مصرعے میں وضاحت
اُسی ترتیب سے نہ ہو۔
میر انیس کا یہ شعر دیکھیے۔
CNCE
چھپتی تھیں، بھائی جاتی تھیں، گرتے تھے خاک پر قبضوں سے تیغ، جسم سے روحیں ، تنوں سے سر کھتی تھیں۔ ” جسم سے روحیں کے لیے ہے ” بھائی جاتی تھیں، تیغ کے لیے اور گرتے تھے خاک پر سے گئی۔ اس ترتیب کا بدلنا لف و نشر غیر مرتب کہلاتا ہے۔ مراد تنوں سے سر کا جدا ہو کر گرنا ہے۔ جو ترتیب پہلے مصرعے میں ہے اس کی وہ من
ایک اور شعر دیکھیے :
کبھی جو زلف اٹھادے تو منہ نظر آئے
اسی امید پہ گزری ہے صبح و شام ہمیں
پہلے مصرعے میں زلف اور پھر منہ کا ذکر ہے۔ دوسرے مصرعے میں صبح کا لفظ منہ کے لیے اور شام کا لفظ زلف کے لیے لائے ہیں یہاں بھی ترتیب بدل گئی۔
مراعاة النظير
جانے ہے
ہمارا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
پہلے مصرعے اور باغ میں باہمی مناسبت ہے۔ میں چا، پھر بوٹا' دوسرے مصرعے میں
" کلام میں پہلے ایک ایسا لفظ لانا جس کی مناسبت یا تعلق سے دوسرے الفاظ کسی ایک مصرعے یا شعر میں جمع ہو جائیں۔ اسے مراعاۃ النظیر کہتے ہیں ۔
رعایت لفظی : اس شعر پر غور کیجیے:
پانی تھا آگ گرمی روز حساب تھی ماہی جو بی موج تک آئی کباب تھی
اس شعر میں پانی اور آگ میں تضاد ہے اور تضاد بھی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں 'پانی کی مناسبت سے ماہی (مچھلی) اور آگ کی مناسبت سے گرمی اور بیخ کے تعلق سے کباب کا ذکر ہوا ہے۔
شعر میں ایسی چیزیں جمع کرنا جن میں کوئی نہ کوئی تعلق ہو، خواہ آپس میں ضد ہو، اسے رعایت لفظی کہتے ہیں ۔
بظاہر مراعاۃ النظیر اور رعایت لفظی اپنی لفظی خصوصیات کی بنا پر ایک ہی صنعت نظر آتی ہیں۔ لیکن مراعاۃ النظیر میں تضاد یا متضاد الفاظ کا استعمال نہیں ہوتا۔
اردو قواعد اور انشا
کلام میں باہمی مناسبت کے ساتھ لفظوں کا استعمال صنعت مراعاۃ النظیر کہلاتا ہے۔
اب کچھ اور مثالوں کے ساتھ اس صنعت کا لطف لیجیے :
کبھی شاخ و سبزه و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مراحق ہے فصل بہار پر
صراحی ہے نہ صہبا ہے نہ کوئی جام ہے ساقی نے ان کی محفل میں خدا کا نام ہے ساقی
ONCER
repub
میر کی غزل کا یہ مشہور شعر پڑھیے:
یاں کے سپید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے رات کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں توں شام کے
to
اس شعر میں ان لفظوں پر غور کیجیے:
رات دن
پیدیہ
صبح شام
not
شاعر نے ایسے الفاظ شعر میں استعمال کیے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔
کلام میں ایسے الفاظ کا لانا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، تضاد کہلاتا ہے۔“
علم بدیع
ذیل کے اشعار میں بھی تضاد کا مزہ لیجیے:
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
درد منت کش دوا نہ ہوا میں نہ اچھا ہوا، میرا نہ ہوا
(Allsion)
آپ کو افسر میرٹھی کی نظم کا یہ مصرعہ خوب یاد ہوگا ع خضر کا کام کروں راہ نما بن جاؤں یا پھر غالب کی غزل کا یہ شعر بھی آپ کے ذہن میں ہوگا۔
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
ان دونوں مثالوں میں لفظ خضر اور نمروز آئے ہیں۔ حضرت خضر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ
کھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔
نمروز ایک بادشاہ کا نام ہے جس نے اپنے دور میں خدائی کا دعوی کیا تھا۔ جب تک ان کے بارے میں
معلومات نہ ہو شعر کا مفہوم واضح نہیں ہو سکتا۔
کلام میں جب کسی مشہور واقعہ شخص، مقام یا روایت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو اسے تلمیح کہتے ہیں۔“
تلمیح کے استعمال سے شعر میں ایک بڑا مضمون مختصر لفظوں میں بیان ہو جاتا ہے۔ تلمیح کے واقعے کا شعر کے
مضمون پر بھی اثر ہوتا ہے۔
تامیج کی کچھ اور مثالیں درج ذیل ہیں:
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
ابن مریم ہوا کرے کوئی کیا فرض ہے کہ کو لے ایک سا جواب اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر حجم سے مرا جام سفال اچھا ہے
دو کہ ہم بھی سیر کریں کو لے کے م نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
CNC
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
becep
غالب کا یہ شعر پڑھیے:
سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
غالب نے اس شعر میں مختلف قسم کے پھولوں کے کھلنے کا سبب یہ بتایا ہے کہ زمین کے اندر جو حسین
چہرے اور ہستیاں دفن ہیں گویا انھیں کا عکس لالہ و گل میں نمایاں ہو گیا ہے۔
not
لالہ وگل یعنی پھولوں کا کھلنا فطری عمل ہے مگر شاعر نے اس کا کچھ اور سبب بتایا ہے۔
شعر میں کسی بات کا وہ سبب بیان کرنا جو حقیقت میں اس کا سبب نہ ہو، حسن تعلیل کہلاتا ہے۔“
71
علم بدیع
حسن تعلیل کی کچھ اور مثالیں دیکھیے :
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا پانی بھی موج بن کر اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو
ایهام
اس شعر کو غور سے پتھر
کے میکش کو ہوس اماغ کی ہے پروانے کو کو چراغ کی ہے اس شعر میں لفظ کو پر غور کیجیے۔ اس کے ایک معنی ہیں " شعلہ اور دوسرے معنی ہیں ' شوق / آرزو، لیکن
شاعر نے یہاں لو کو دوسرے معنی ' شوق / آرزو میں استعمال کیا ہے۔
کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ایک قریب کے اور دوسرے دور کے اور شاعر کی مراد دور کے معنی سے ہو تو لفظ کا یہ استعمال، ایہام کہلاتا ہے ۔
ایہام کے لغوی معنی ہیں وہم میں ڈالنا شاعر اپنے کلام میں ایک ایسے لفظ سے وہم میں ڈالتا ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا بظاہر قریب کے معنی سمجھتا ہے مگر شاعر دور کے معنی مراد لے کر اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔
اب کچھ اور مثالیں دیکھیے :
کیوں منڈاتا ہے زلف کو پیارے نظر آتا نہیں وہ ماہ رو کیوں
دیکھ تجھ کو کہیں گے سب مورکھ
گزرتا ہے مجھے یہ چاند خالی
مبالغه
ان اشعار کو پڑھیے اور غور کیجیے :
وعدہ شام پر کی ہم نے عبث جاگ کے صبحتم سلامت رہو ہزار برس
وہ اُسی وقت نہ آتے اگر آنا ہوتا ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
ان اشعار میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
پہلے شعر میں رات بھر جاگ کر صبح کرنا ۔
دوسرے شعر میں ہزار برس جینے کی دعا دینا۔
تیسرے شعر میں گرمی کی شدت کا یہ حال کہ جو دانہ زمین پر گر جائے فوراً بھن جائے۔
"کلام میں کسی حالت ، بات یا کیفیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، مبالغہ کہلاتا ہے۔“
مبالغہ کی تین شکلیں ہیں :
پہلے شعر میں رات بھر جاگ کر صبح کر دینا عقل اور عادت دونوں اعتبار سے ممکن ہے۔
مبالغہ کی یہ شکل کہ جب کوئی بات عقلی اور عملی دونوں طرح ممکن ہو تبلیغ کہلاتی ہے ۔“
دوسرے شعر میں ہزار برس جینے کی دعا عقلی طور پر تو ممکن ہو سکتی ہے مگر عملی طور پر نہیں۔
مبالغہ کی یہ صورت جب کوئی بات عقلی طور پر تو ممکن ہو لیکن عملی طور پر ممکن نہ ہو، اسے اغراق کہتے ہیں ۔
تیسرے شعر میں گرمی کی شدت کا یہ بیان کہ دانہ زمین پر گرتے ہی بھن جائے یہ بات نہ عقلی طور پر صحیح ہے
نہ عملی طور پر ممکن ہے۔
علم بدیع
73
مبالغے کی یہ انتہائی شکل کہ جب کوئی بات عقلی اور عملی کسی طور پر بھی ممکن نہ ہو، غلو کہلاتی ہے۔
ذیل کی مثالوں میں مبالغے اور اس کی مختلف شکلوں کو پہچانیے :
مجمع میں تل رکھنے کی جگہ نہ تھی۔“
جناب آپ کے تو بڑے ٹھاٹھ ہیں ، روز صبح کا ناشتہ دہلی میں تو کھانا لندن میں کھاتے ہیں ۔
نداروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے پانی تھا آگ گرفتی روز ساب تھی
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی
Comments
Post a Comment