علم نحو

 وہ علم ہے جس سے اجزائے کلام کو ترتیب دینے اور  جدا جدا کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کلمات کے ربط اور باہمی تعلق کے حال سے واقفیت ہوتی ہے اور جس غلطی سے مطلب میں خلل واقع ہو اس سے کلام کو بچاتاہے۔

اقسام جملہ

ترکیب کے لحاظ سے جملہ کی تین قسمیں ہیں۔

(1)مفرد               (2) ملتف           (3)مرکب

جملہ مفرد: وہ جملہ ہے جس میں صرف ایک مسند الیہ اور ایک مسند ہو ۔ جیسے ۔ احمد پڑتا ہے۔

کسی جملہ میں مسند الیہ اور مسند کے علاوہ پانچ چیزیں اور بھی ہوتی ہیں۔ جن کو متعلقات کہتے ہیں۔  

(1) مفعول مطلق     (2) مفعول فیہ   (3)  مفعول لہ  

(4) حال      (5) جار مجرور یعنی مرکب جاری

مفعول مطلق :۔ وہ مفعول ہے جو اپنے فعل کا مصدر  یا حاصل مصدر یا مرادف ہو۔ جیسے ۔ وہ شیر کی بولی بولا ، میں چال چلا (بولی اور چال مفعول مطلق ہیں)

مفعول فیہ :۔ فعل ہونے کے وقت یا مقام کو مفعول فیہ کہتے ہیں۔ جیسے۔ تم رات کو کہاں تھے  (اس جملہ میں "رات اور کہاں" مفعول فیہ ہیں۔)

مفعول لہ  :۔ فعل کے ہونے کے سبب وعلت کو مفعول لہ کہتے ہیں۔ میں نے احمد کو پڑھنے کے لئے مارا میں " پڑھنے کے لئے " مفعول لہ ہے۔ 

حال :۔ وہ اسم ہے جو فاعل یا مفعول بہ کی ہیئت بیان کرے ۔ جیسے ۔ آحمد ہستا آیا، زید خوش خوش آیا   ( یہاں ہنستا اور خوش خوش  جملے کے لئے حال ہے۔)

جار مجرور :۔ وہ مرکبات ہیں جو فعل یا شبہ فعل کے متعلق ہوتے ہیں۔ جیسے۔ خالد پڑھنے لکھنے میں تیز ہے۔

جملہ ملتف

جملہ ملتف : وہ جملہ ہے جس میں علاوہ ایک جملہ  اصلی کے ایک یا چند جملے داخلی بھی ہوں۔ جیسے ۔  " میں دیکھتا ہوں کہ زید کھیلتا ہے ۔"   یہاں اس جملہ میں   "دیکھتا ہوں"   جملہ مفرد ہے جو اصلی ہے اور  " زید کھیلتا ہے "  جملہ کا حصہ ہے کیوں کہ فعل کا مفعول ہےلہذا داخلی ہوا۔

جملہ اصلی: وہ آزاد جملہ ہے جو خود کسی جملہ کے جز و مسند الیہ ، مسند کے متعلق نہ ہو بلکہ دوسرے جملے اس کے جز کے متعلق ہوں مذکورہ جملہ میں " میں دیکھتا ہوں " جملہ اصلی ہے۔

جملہ داخلی : یہ وہ جملہ ہے جو اصلی جملہ کے جز کے متعلق ہو ۔ جیسے اوپر کے جملہ میں "زید کھیتا ہے"جملہ داخلی ہے۔

جملہ داخلی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ 

جملہ  بیانیہ

جملہ وصفیہ

جملہ ظرفیہ

جملہ  بیانیہ :۔ وہ جملہ ہے کلام سابق کا بیان و تفسیر  اور  یہ اسم اشارہ محذوف کا قائم مقام ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بری صحبت کا اثر برا ہوتا ہے ، واعظ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ بھوکوں کو کھانا دو        مذکورہ جملوں میں ' کہ ' کے بعد والے حصے بیانیہ ہیں۔ 

جملہ وصفیہ:۔ وہ جملہ ہے جو جملہ اصلی کے مسند الیہ یا تتمہ مسند کی صفت کی طرح مستعمل ہو ۔ جیسے۔ وہ آدمی جو کل آیا تھا آج بھی آیا ہے  ( جملہ وصفیہ کو جو ، جیسا ، جتنا ، جب ، اور جہاں وغیرہ الفاظ سے شروع کرتے ہیں۔ 

جملہ ظرفیہ :۔ وہ جملہ ہے جو فعل کے صدور کا زمان ، مکان، طریقہ، مقدار وغیرہ ظاہر کرے۔ جیسے۔   

       جب پانی برستا ہے تب مینڈک بولتے ہیں۔۔۔ زمان 

        جہاں پہلے خشکی تھی اب وہاں پانی ہے۔۔ مکان

          جیسے ہی وہ آیا ویسے ہی میں چلا گی۔۔ طریقہ

              کوئی اتنا نہیں کھاتا جتنا وہ کھاتا ہے۔۔ مقدار

جملہ ظرفیہ میں  جب ، جہاں ، جدھر ، جیوں ، اگر ، کہ وغیرہ سے ابتدا ہوتی ہے۔

جملہ مرکب

جملہ مرکب :۔ وہ جملہ ہے جس میں دو یا چند جملے اصلی ہوں۔ جیسے ۔احمد آیا اور زید چلا گیا۔حامد آیا یا انور  ۔ آج سالم اسکول نہیں گیا کیونکہ وہ بیمار تھا

جملہ مرکب میں اصلی جملے  حروف عطف ، تردید ، استدراک اوے علت سے مرکب ہوتے ہیں ۔جو.جملہ حوف عطف ، تردید ، استدراک اور علت کے قبل ہوتا ہےن اسی کو  معطوف الیہ اور جو جملہ ان حروفوں کے بعد آتا ہے اس کو معطوف کہتے ہیں۔

معنی کے لحاظ سے جملہ کی دو قسمین ہیں۔ 

جملہ خبریہ

جملہ انشائیہ

جملہ حبریہ :۔ وہ جملہ ہے  جس سے کسی واقعہ کی خبر   ظاہر ہو۔ جیسے۔ احمد آیا

جملہ انشائیہ :۔ وہ جملہ ہے جس سے انشا یعنی خواہش ظاہر ہو۔ جیسے۔ جاؤ  ۔ مت لکھو

جملہ انشائیہ کی مندرجہ ذیل نو قسمیں ہیں۔

امر   :۔ جیسے ۔ جاؤ ، بیٹھو ، لکھو

نہی :۔ جیسے ۔ مت جاؤ ، مت لکھو

تمنا :۔ جیسے ۔ کاش احمد آتا

ندا :۔ جیسے ۔ اے احمد یہاں آؤ

استفہام :۔ جیسے۔ تم کیا پڑتے ہو؟ 

تنبیہ:۔ جیسے ۔ خبردار ہو

دعاء:۔ جیسے ۔ تیری عمر دراز ہو

عرض:۔ کسی کام کا شوق دلانا ۔ جیسے۔ محنت کرو تاکہ امتحان میں کامیاب ہو جاؤ

عقود:۔ یعنی معاملات خرید و فروخت میں جو جملے استعمال ہوں ۔۔ جیسے ۔خرید ار کہےکہ میں نے یہ قلم پانچ روپئے میں خریدا اور دس روپئے میں فروخت کیا۔






 






Comments

Popular posts from this blog

مضمون نگاری کی تعریف اور اس کے اصول

مضمون کی قسمیں

تخلیقی نثر