Posts

Showing posts from December, 2025
 اگر چہ اردو زبان کی ارتقاء میں مسلمان فاتحین کے اثرات مسلم ہیں مگر اردو کے ابتدائی شو نما میں صوفیائے کرام کا ایک بڑا حصہ ہے ۔ صوفیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لئے یہاں کی عوامی بولی کا انتخاب کیا۔ کیوں کہ یہ زبان سارے ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی ۔ اس لئے وہ یہاں کی علاقائی زبان کو ابلاغ و ترسیل کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے جو عوام میں رائج تھی۔ لفظ صوفى " صوف " يا صفا سے مشتق ہے۔ صوفیوں کو مذھبی اور اخلاقی دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ صوفی حضرات ہمیشہ باطن کی آنکھ سے کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ برائی میں اچھائی تلاش کرتا ہے ۔ اصل صوفی ماہر تاسیسات ہوتا ہے۔ دلوں کو ٹٹولتا ہے ۔ اور اس کے نہ تک پہونچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نیز انسان کے پوشیدہ راز کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کو ہمیشہ علماء ، امراد بلکہ حکومتوں پر بالادش حاصل رہی ہے۔ صوفیوں کا دربار عام ہوتا ہے جہاں امیر و غریب ، عالم و جاصل میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔  ابلاغ و ترسیل کے لئے سب سے آسان ذریعہ زبان ہے۔ دلوں کے اندر داخل ہونے کے لئے ہم زبان اور ہم خیال ہونا ضروری ہے ۔ اس لئے صوف...
                  ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز نومبر 1923ء میں کلکتہ کے ایک ریڈیو کلب سے ہوا ۔ جبکہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز 1921 ء میں ہوا۔ حسن مثنیٰ لکھتے ہیں : " جناب کے ایم سری واستو اپنی تصنیف "   Radio    and T.V.   Journalism  " میں رقم طراز ہیں کہ  :  ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز اس وقت ہوا جب بمبی کے گورنر سر جارج لائڈ کی فرمائش پر ٹائمس آف انڈیا نے 1921 ء میں اپنے بمبئی   آفس سے پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کے اشتراک سے موسیقی کا ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جسے بمبی سے دو سو کلومیٹر دور ہونے میں سر جارج لائڈ نے سنا۔ جبکہ براڈ کاسٹک ان انڈیا  " Broadcasting  in India "  کے مصنف پی سی چڑجی کا خیال ہے کہ ہندوستان میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز نومبر . 1923ء میں اس وقت ہوا جب کلکتہ میں ریڈیو کلب بنا اور اس نے پروگرام نشر کرنا شروع کیا۔ " (ریڈیو نشریات - آغار وار تقاء : ح...