بیگ کو ایک کامیاب خاکہ نگار کہا جا سکتا ہے۔ درج ذیل اقتباس کی روشنی میں سوالوں کے جواب دیجئے۔ سوال : جب تک کوئی دھکے دے کر نہ نکالے گا، اس وقت تک تو ہم جانتے نہیں اور جائیں گے تو ابھی پھر آجائیں گے۔ (الف) یہ قول کس کا ہے؟ ( جواب: یہ قول مرزا فرحت اللہ بیگ کا ہے۔ ب) اس قول میں دھکے دینے کی بات کیوں کہی گئی ہے؟ جواب: اس قول میں دھکے دینے کی بات اس لئے کہی گئی ہے کہ مرزا فرحت اللہ بیگ ا پنی نذیر احمد کے چہیتے شاگر د تھے وہ جانتے تھے کہ استاد کا حصہ مصنوعی ہے وہ صرف علم کے شوق کو آزمانے کے لئے طالب علموں کو جاننے کے لئے کہتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ وہ نذیر احمد کے سامنے ڈھیٹ بھی ہو گئے تھے۔ سوال درج ذیل اقتباس کی روشنی میں سوالوں کے جواب دیجئے۔ خدا محفوظ رکھے اتم جیسے شاگرد بھی کسی کے نہ ہوں گے۔ شاگرد کیا ہوئے استاد کے استاد ہو گئے۔ اچھا بھئی میں ہارا، میں ہارا، اچھا خدا کے لئے کتاب اٹھا لاؤ، اور سبق پڑھ کر میرا چڑ چھوڑو۔ (الف) یہ قول کس کا ہے؟ جواب: یہ قول ڈپٹی نذیر احمد کا ہے۔ (ب) یہ بات کسی سے کہی گئی ہے؟ جواب یہ بات مرزا فرحت اللہ بیگ سے کہی گئی ہے۔ ( ج) اس قول میں کسی سے چھٹکارا پان...
Posts
Showing posts from August, 2026
- Get link
- X
- Other Apps
سوال فرحت اللہ بیگ نے اپنے استاد سے کیا سیکھا؟ جواب: مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنے استادڈ پٹی نذیر احمد سے بہت کچھ سیکھا اور ان سے بہت متاثر بھی ہوئے۔ پڑھنے کے دوران فرحت اللہ بیگ، نذیر احمد کی شخصیت کو قریب سے دیکھا اور پچشم خود مشاہدہ بھی کیا اور شخصیت کے ہر پہلو کا معائنہ بھی کیا۔ فرحت اللہ بیگ کے استادڈ پٹی نذیر احمد سے غیر معمولی طور پر متاثر ہونے کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے استاد کا ایک خاکہ لکھ ڈالا اور اردو نثر میں خاکہ نگاری کی ایک مضبوط روایت قائم کی اس کے بعد سے ہی اردو میں صنف خاکہ نگاری کے بہت سے قدرداں پیدا ہو گئے ۔ فرحت اللہ بیگ کا شمارڈپٹی نذیر احمد کے چہیتے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ زیر نصاب خاکہ نذیر احمد کی کہانی میں مرزا فرحت اللہ بیگ نے وہی کچھ بیان کیا ہے جو انہوں نے نذیر احمد سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران سیکھا اور سمجھا اور ان احوال کو بھی انہوں نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کسی طرح فرحت اللہ بیگ نذیر احمد کے گھر جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ عبارت پڑھنے کے دوران ان سے اعراب کی بھی غلطیاں ہوتی تھیں۔ عربی کے صرف و نحو میں بھی وہ کمزور تھے۔ نٹر کو تو وہ سمجھ لیتے تھے...
- Get link
- X
- Other Apps
10 Golden Passport to Urdu-XII طویل سوالات مع جوابات (Long Type Questions with Answers) سوال مولوی صاحب اپنے شاگردوں سے کیوں غصہ ہو گئے تھے؟ جواب: مولوی صاحب اپنے شاگردوں سے اس لیے غصہ ہوتے تھے کہ وہ درس کے دوران شاگردوں سے پہلے کتاب کی عبارت پڑھوا کر سنتے تھے اگر طلبہ عبارت غلط پڑھ دیتے یا کہیں اعراب کی غلطی کر دیتے تھے تو مولوی نذیر احمد صاحب عبارت غلط پڑھنے کو نا قابل معافی جرم قرار دیتے تھے۔ متلون مزاج تھے ہی اوپر سے طلبہ کا غلط عبارت پڑھنا جلے پر نمک کا کام کرتا تھا۔ کسی طالب علم کے غلط عبارت پڑھنے پر یا عربی عبارت میں غلط اعراب لگانے پر وہ اس قدر چراغ پا ہوتے تھے کہ کبھی کبھی طلبہ کو درس سے نکال دیا کرتے تھے۔ مولوی نذیر احمد صاحب کے ایک شاگرد دانی میاں کا قصہ ہے کہ انہوں نے دیوان متنبی پڑھنے کے دوران متنبی کے اشعار کو کچھ اس طرح پڑھا کہ گویا شعر نہیں نثر پڑھ رہے ہیں۔ مولوی صاحب ایک دو اشعار تک تو خاموشی سے سنتے رہے لیکن تیسرے شعر میں بھی جب میاں دانی نے وہی غلطی دہرائی تو مولوی نذیر احمد کے غصہ کی انتہا نہ رہی۔ وہ میاں دانی پر اس قدر ناراض ہوئے کہ اس کو درس سے نکال کر ہی دم...