سوال فرحت اللہ بیگ نے اپنے استاد سے کیا سیکھا؟


جواب: مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنے استادڈ پٹی نذیر احمد سے بہت کچھ سیکھا اور ان سے بہت متاثر بھی ہوئے۔ پڑھنے کے دوران فرحت اللہ بیگ، نذیر احمد کی شخصیت کو قریب سے دیکھا اور پچشم خود مشاہدہ بھی کیا اور شخصیت کے ہر پہلو کا معائنہ بھی کیا۔ فرحت اللہ بیگ کے استادڈ پٹی نذیر احمد سے غیر معمولی طور پر متاثر ہونے کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے استاد کا ایک خاکہ لکھ ڈالا اور اردو نثر میں خاکہ نگاری کی ایک مضبوط روایت قائم کی اس کے بعد سے ہی اردو میں صنف خاکہ نگاری کے بہت سے قدرداں پیدا ہو گئے ۔


فرحت اللہ بیگ کا شمارڈپٹی نذیر احمد کے چہیتے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ زیر نصاب خاکہ نذیر احمد کی کہانی میں مرزا فرحت اللہ بیگ نے وہی کچھ بیان کیا ہے جو انہوں نے نذیر احمد سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران سیکھا اور سمجھا اور ان احوال کو بھی انہوں نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کسی طرح فرحت اللہ بیگ نذیر احمد کے گھر جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ عبارت پڑھنے کے دوران ان سے اعراب کی بھی غلطیاں ہوتی تھیں۔ عربی کے صرف و نحو میں بھی وہ کمزور تھے۔ نٹر کو تو وہ سمجھ لیتے تھے لیکن نظم کو سمجھنے میں انہیں پریشانی ہوتی تھی۔ نذیر احمد انہیں بار بار سمجھاتے تھے اور سمجھا کر پریشان ہو تھے اور اپنے افتاد طبع کی وجہ سے ناراض بھی ہو جاتے تھے اور ناراضگی کی حالت میں ہی فرحت جاتے اللہ بیگ کو تعلیم دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ لیکن فرحت اللہ بیگ بھی دھن کے پکے تھے نذیر احمد کے ڈانٹنے ڈیٹنے کے باوجود ٹس ۔ ں ہوتے تھے۔ اور اس بات پر ڈٹے رہتے تھے کہ جب پڑھیں گے تو نذیر احمد سے ہی پڑھیں گے۔ اب فرحت اللہ بیگ کی اس ضد کو دنیا چاہے بے حیائی کہے یا اسے علم کا بے انتہا شوق قرار دیا جائے یا جو بھی چاہے کہے لیکن جس کے دل میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہو گا وہ اپنے استاد کے لاکھ ڈانٹنے پر بھی اس کی قربت اور صحبت سے دور نہیں جائے گا۔ استاد کی بری اور


بھلی دونوں باتوں کو سنے گا اور سمجھے گا اور استاد کی نصیحت کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے غور سے سنے گا۔ یہاں تک کہ تدریس کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ نذیر احمد نے فرحت اللہ بیگ کو سنے


صراحتاً کہا کہ متن تم لوگوں کو نہیں پڑھاؤں گا نکل جاؤ یہاں سے لیکن شاگرد بھی ایسا ڈھیٹ کہ جواب دیا کہ جب تک کوئی مجھے دھکے دے کر نہیں نکالے گا میں جانے والا نہیں اور اگر گئے بھی تو پھر فوراً واپس آجائیں گے۔ آخر نذیر احمد بھی مجبور ہو کر نرم پڑ گئے اور طبیعت کی ناسازی کا بہانہ کر کے رخصت کر دیا اور کل آنے کو کہا۔ یہ دراصل فرحت اللہ بیگ کے حصول علم سے بے انتہا شوق کا مظہر تھا جس میں وہ صد فی صد کامیاب رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

مضمون نگاری کی تعریف اور اس کے اصول

علم ہجا ( حروف تہجی اور ان کے اقسام)

مضمون کی قسمیں