10


Golden Passport to Urdu-XII


طویل سوالات مع جوابات


(Long Type Questions with Answers)


سوال مولوی صاحب اپنے شاگردوں سے کیوں غصہ ہو گئے تھے؟


جواب: مولوی صاحب اپنے شاگردوں سے اس لیے غصہ ہوتے تھے کہ وہ درس کے دوران شاگردوں سے پہلے کتاب کی عبارت پڑھوا کر سنتے تھے اگر طلبہ عبارت غلط پڑھ دیتے یا کہیں اعراب کی غلطی کر دیتے تھے تو مولوی نذیر احمد صاحب عبارت غلط پڑھنے کو نا قابل معافی جرم قرار دیتے تھے۔ متلون مزاج تھے ہی اوپر سے طلبہ کا غلط عبارت پڑھنا جلے پر نمک کا کام کرتا تھا۔ کسی طالب علم کے غلط عبارت پڑھنے پر یا عربی عبارت میں غلط اعراب لگانے پر وہ اس قدر چراغ پا ہوتے تھے کہ کبھی کبھی طلبہ کو درس سے نکال دیا کرتے تھے۔


مولوی نذیر احمد صاحب کے ایک شاگرد دانی میاں کا قصہ ہے کہ انہوں نے دیوان متنبی پڑھنے کے دوران متنبی کے اشعار کو کچھ اس طرح پڑھا کہ گویا شعر نہیں نثر پڑھ رہے ہیں۔ مولوی صاحب ایک دو اشعار تک تو خاموشی سے سنتے رہے لیکن تیسرے شعر میں بھی جب میاں دانی نے وہی غلطی دہرائی تو مولوی نذیر احمد کے غصہ کی انتہا نہ رہی۔ وہ میاں دانی پر اس قدر ناراض ہوئے کہ اس کو درس سے نکال کر ہی دم لیا پھر جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو دوسرے دن اسے درس میں شامل کیا۔


ایک دوسرے شاگر دمیاں رضا کا بھی یہی انجام ہوا ہو یہ کہ دیوان منتھی ہی پڑھ رہے تھے اور میاں


دانی والے درس میں ہی جب میاں دانی نے عربی شعر کو غلط پڑھ دیا تو میاں رضا کو عبارت پڑھنے کا حکم ہوا۔ موصوف نے شعر کو میاں دانی سے طویل نثر بنادیا۔ مولوی صاحب کو بھلا تاب کہاں تھی انہوں نے فوراً میاں رضا کو صلاح دیا کہ تم میرا مشورہ قبول کر تب مولوی صاحب ذرا نرم پڑے اور کا یہاں آنا بند کر دو۔ یہ سن کر میاں رضا پژمردہ ہو گئے۔ ہیں نکال رہا ہوں بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ دس پندرہ دن شام کو کالی جان استاد کے درس میں شامل ہو جایا کرو تا کہ نثر اور نظم کے درمیان فرق کو سمجھ سکو اور شعر سے کچھ مناسبت ہو جائے۔ ورنہ تم جس طرح یہاں شعر پڑھتے ہو وہ گویا اشعار کے گلے پر چھری پھیر نے کے


مترادف ہے۔ اس طرح میاں رضا بہت شرمندہ ہوئے اور مولوی صاحب کے یہاں جاتا ہی چھوڑ دیا۔ مختصر یہ کہ مولوی صاحب بچوں کو پڑھانے میں بہت سختی کیا کرتے تھے۔ جب طالب علم


ان کی سختی کو جھیل جاتا تھا تو مولوی صاحب کے یہاں سے کندن بن کر نکلتا تھا۔ دراصل تدریس کے دوران سختی کرنا مولوی صاحب کی شخصیت کا ظاہری پہلو تھا ور نہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اندر سے بالکل نرم مزاج واقع ہوئے تھے۔ ظاہری تختی بھی تدریس کے معاملے میں ان کے اخلاص کا مظہر تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

مضمون نگاری کی تعریف اور اس کے اصول

علم ہجا ( حروف تہجی اور ان کے اقسام)

مضمون کی قسمیں