Posts

ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء-معاشرے پر ٹیلی ویژن کے مثبت اور منفی اثرات

         ٹیلی ویژن: ابتدا اور ارتقاء                           ٹیلی ویژن موجودہ زمانے کا موثر ذریعہ ابلاغ ہے اور یہ انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ اس کے اثرات اخبار ،ریڈیو اور فلم کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ لفظ ٹیلی ویژن  دو  الفاظ کا مرکب ہے۔  ٹیلی  یونانی لفظ ہے جس کے معنی بہت دور سے اور  ویژن  لاطینی لفظ ہے جس کے معنی  دیکھنا یا  دیکھائی  دینا ہے۔ اس طرح ٹیلی ویژن کے معنی بہت دور کی چیز کو دیکھنا ہے۔                  ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل ریڈیو مواصلات کا اہم ذریعہ تھا ۔ اور بغیر آواز کی محرک فلم بھی پردے پر پیش ہونے لگی تھی ۔ جلد ہی سائنس دانوں نے تصویر کی حرکت اور آواز کو ایک ساتھ پیش کرنے اور پھر ان دونوں کو لہروں میں بدل کر دور تک بھیجنے اور ان لہروں کو دوبارہ تصویر اور آواز کی شکل میں حاصل کرنے کے طریقے ایجاد کر لیے جو ٹیلی وژن کے ایجاد کا ذریعہ بنے ۔ ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغار سب س...

ع

ع

ب

علم بلاغت: وہ علم ہے جس میں جملوں کی لفظی اور معنوی خوبیاں بیان کی جاتی ہے۔                      بلاغت کے لغوی معنی ہیں " تیز زبانی" ، کلام میں انتہائی درجے تک پہنچنا ، فصیح کلام ، حسب موقع گفتگو ، اس سے مجازی معنی نکلے  ، کلام کو دوسروں تک پہونچانے میں مرتبہ کمال کو پہنچنا۔                         جس کلام میں دوسروں تک پہنچنے کی جتنی صلاحیت ہوگی  وہ کلا اتنا ہی بلیغ ہوگا۔ یوں تو علم بلاغت ترسیل و ابلاغ کا معاملہ قاری کی نفسیات، اس کے علم، شاعر جس ط روایت کا وارث ہے۔ جن حالات  میں شعر کہ رہا ہے ان سب مسائل سے متعلق ہے۔                          لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ جس صورت حال کو بلاغت کہتے ہیں وہ بعض مخصوص حالات میں پیدا ہوتی ہے اور ان مخصوص حالات کا مطالعہ مخلف علوم کے تحت ہوتا ہے۔ ان علوم  کو مختصرا علوم بلاغت کہ سکتے ہیں۔                ...

علم نحو

  وہ علم ہے جس سے اجزائے کلام کو ترتیب دینے اور  جدا جدا کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کلمات کے ربط اور باہمی تعلق کے حال سے واقفیت ہوتی ہے اور جس غلطی سے مطلب میں خلل واقع ہو اس سے کلام کو بچاتاہے۔ اقسام جملہ ترکیب کے لحاظ سے جملہ کی تین قسمیں ہیں۔ (1)مفرد               (2) ملتف           (3)مرکب جملہ مفرد: وہ جملہ ہے جس میں صرف ایک مسند الیہ اور ایک مسند ہو ۔ جیسے ۔ احمد پڑتا ہے۔ کسی جملہ میں مسند الیہ اور مسند کے علاوہ پانچ چیزیں اور بھی ہوتی ہیں۔ جن کو متعلقات کہتے ہیں۔   (1) مفعول مطلق     (2) مفعول فیہ   (3)  مفعول لہ   (4) حال      (5) جار مجرور یعنی مرکب جاری مفعول مطلق :۔ وہ مفعول ہے جو اپنے فعل کا مصدر  یا حاصل مصدر یا مرادف ہو۔ جیسے ۔ وہ شیر کی بولی بولا ، میں چال چلا (بولی اور چال مفعول مطلق ہیں) مفعول فیہ :۔ فعل ہونے کے وقت یا مقام کو مفعول فیہ کہتے ہیں۔ جیسے۔ تم رات کو کہاں تھے  (اس جملہ میں "رات اور کہاں" مفعول فیہ ہ...

حرف کا بیان

کلمہ کی تین قسمیں ہیں (1) اسم      (2) فعل ( 3 ) حرف   حرف کا بیان حرف: وہ کلمہ ہے جو اسم یا فعل سے مل کر اپنے  معنیٰ کو بتاۓ اکیلا کوئی معنیٰ نہ دے ۔ جیسے کو، سے، تک، پر  وغیرہ حرف کی دو قسمیں ہیں (1) ہجا                  (2) معنوی   ہجا:   اردو قواعد کا وہ حصہ ہے جس میں حروف تہجی کے متعلق معلومات فراہم کرائی جاتی ہے- حروف کے حرکات، سکنات، مخرج اور اعراب وغیرہ کی جانکاری شامل ہوتی ہے۔ معنوی: اصطلاح عِلم صرف میں وہ کلمہ ہے جو معنیٰ تو ضرور ہے مگر بغیر  کسی دوسرے لفظ یعنی اسم یا فعل کے ملے ہوۓ وہ اپنے معنی ظاہر  نہیں کر سکتا۔  حروف معنوی کی چار قسمیں ہیں (1) حروف ربط       (2) حروف تخصیص (3) حروف عطف         (4) حروف فجائیہ حروف ربط: وہ حرف جو اپنے ما قبل سے اپنے بعد کے لفظ کا تعلق ظاہر کرے۔ اس کو حرف جار بھی کہتے ہیں۔چونکہ ایک لفظ کے معنیٰ کو کھینچ کردوسرے لفظ سے ملاتے ہیں اس لیے ان کو حروف جار کہتے ہیں۔اور جس لفظ سے وہ ملاتے ہیں انھیں مجرور ک...